ایران نے برطانوی انتباہ مسترد کر دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے برطانوی انتباہ کر مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ وہ پیر سے متنازع جوہری پروگرام پر دوبارہ شروع کرے گا۔ ایران نے جوہری پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر برطانیہ نے ایران کی طرف سے پروگرام دوبارہ شروع کرنے کو دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ دھمکی ’غیر ضروری اور نقصان دہ‘ ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ یورینیم کی محدود افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا اور اس نے اس بارے میں اقوام متحدہ کی ایٹمی نگرانی کی ایجنسی آئی اے ای اے کو آگاہ کر دیا ہے۔ ایران مسلسل اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اس کا خام یورینیم کی افزودگی کا پروگرام جو پیر سے اصفہان کے پلانٹ میں شروع کیا جا رہا ہے خالصتاً پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔ جب کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے یک طرفہ اقدامات نہ کرے جن سے یورپی یونین کے ممالک سے جاری اُس کے مذاکرات پر برا اثر پڑے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان ڈیڈ لائن پر اختلاف خطرناک ہوتا جا رہا ہے اور اگر تو ایران سے جاری بات چیت ختم کر دی جائے گی اور اس کے آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا جو اس کے بعد کا لائحہ عمل طے کرے گا۔ جون لین کا کہنا ہے کہ ہنگامی اجلاس ایران کے معاملے کو سلامتی کونسل کو بھیج سکتا ہے اور ایران پر پابندیاں بھی نافذ ہو سکتی ہیں۔ اس سے قبل اتوار کی صبح خبر آئی تھی کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں مغربی ممالک کی طرف سے تجاویز دینے کی تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ بین الا قوامی دباؤ کے تحت ایران نے گزشتہ سال نومبر میں یورینیم کو تبدیل کرنے اور اس کی افزودگی کے تمام پروگرام روک دیے تھے۔ تاہم ایران نے ہمیشہ اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز سے قطع نظر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق کچھ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||