ایران: ایک اوردن کی مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے یورپی یونین کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں تجاویز جمع کروانے کے لیے اور ایک دن کی مہلت دے دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا خام یورینیم کی افژودگی کا پروگرام خالصتاً پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ جب کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے۔ یورپی یونین نے کہا تھا کہ وہ اس تنازعہ کے حل کے لیے تجویز پیش کرے گا اور ایران نے یکطرفہ طور پر اس کے لیے جولائی کے اختتام تک مہلت دی تھی جو پوری ہو چکی ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اسے مزید ایک ہفتہ چاہیے۔ ایران نے بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر گزشتہ سال نومبر میں یورینیم کو تبدیل کرنے اور اس کی افژودگی کے تمام پروگرام روک دیے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنا اس کا حق ہے۔ ایران میں حکام نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو مطلع کر کے پیر سے یورینیم کی افژودگی شروع کر دے گا لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس نے مہلت مزید ایک دن کے لیے بڑھا دی ہے۔ ایران نے ہمیشہ اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی تجاویز سے قطع نظر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق کچھ کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ برطانیہ نے ایران کی طرف سے پروگرام دوبارہ شروع کرنے کو دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھمکی ’غیر ضروری اور نقصان دہ‘ ہے۔ ایران نے برطانوی انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پیر سے جوہری پروگرام پر کام دوبارہ شروع کرے گا۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے یک طرفہ اقدامات نہ کرے جن سے یورپی یونین کے ممالک سے جاری اُس کے مذاکرات پر برا اثر پڑے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل بھیجا جا سکتا ہے اور ایران پر پابندیاں بھی نافذ ہو سکتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||