ایران: جوہری پروگرام شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کا کہنا ہے کہ اصفہان کے نزدیک واقع جوہری پلانٹ نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ کام صرف ان حصوں میں شروع ہوا ہے جہاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نگرانی نہیں کر رہی ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کمیشن کے نائب سربراہ محمد سعیدی نے اس بات کا اعلان اصفہان پلانٹ پر کیا۔ محمد سعیدی نے کہا کہ ایٹمی پلانٹ پر کام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی زیرِ نگرانی شروع کیا گیا ہے۔ جس نے پلانٹ میں نگرانی کے آلات نصب کر دیے ہیں۔ ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے سے ملک کی امریکی اور یورپی یونین سے سفارتی کشیدگی مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں تو اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جایا جائےگا اور اس کے نتیجے میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے ایران کے جوہری سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی منگل کو اس ڈیڈ لاک کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ یہ ایجنسی اس کے بعد اپنی رپورٹ اقوامِ متحدہ کو پیش کرے گی جو کہ ممکنہ پابندیوں پر غور کرے گی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک رپورٹر نے بتایا ہے کہ اس نے اصفہان پلانٹ پر دو کارکنوں کو یورینیم کے پیلے مواد سے بھرا ایک کنستر یورینیم پلانٹ مںی الٹتے ہوئے دیکھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے قبل جوہری پلانٹ کے اردگرد درجنوں طیارہ شکن توپیں بھی نصب کی گئی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنے کا پورا حق حاصل ہےجبکہ امریکہ کا خیال ہے کہ وہ اس پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ ایک ایرانی مذاکرات کار نے گزشہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ ایران کے گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کو رد کر دیا تھا۔ ایران نے بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر گزشتہ سال نومبر میں یورینیم کو تبدیل کرنے اور اس کی افزودگی کے تمام پروگرام روک دیے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنا اس کا حق ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||