BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 October, 2005, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بم دھماکے میں ایران ملوث تھا‘
 بصرہ
احمد الفتروسی کی حراست پر بصرہ میں فسادات ہوئے تھے
برطانیہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس سال عراق میں ایک بم دھماکے میں آٹھ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔

ایک سینیئر برطانوی افسر نے لندن میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایران کے انقلابی گارڈز پر اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی گارڈز نے جنوبی عراق کے اس شیعہ گروہ کو تکنیکی امداد فراہم کی تھی جس نے وہ دھماکہ کیا تھا۔

برطانوی حکام کی جانب سے اس دھماکے میں ایرانی کردار کا ذکر پہلے بھی کیا گیا تھا تاہم باقاعدہ طور پر الزام پہلی مرتبہ لگایا گیا ہے۔

برطانوی افسر نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومتِ ایران سے احتجاج بھی کیا گیا اور ایرانی حکومت نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ برطانوی افسر نے بتایا کہ ’یہ ٹیکنالوجی حزب اللہ کی تھی اور لبنان سے ایران اور وہاں سے عراق پہنچی اور اس کے نتیجے میں نہایت طاقتور دھماکہ خیز مواد تیار ہوا‘۔

افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقتدیٰ الصدر کی مہدی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے وہ بم دھماکا کیا تھا۔ افسر نے بتایا کہ اس ملیشیا کا ایک رہنما احمد الفتروسی برطانوی فوج کی حراست میں ہے۔ یاد رہے کہ اسی رہنما کی حراست کی وجہ سے بصرہ میں حالیہ فسادات ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اس وقت اس الزام کے سامنے آنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت جوہری معاملے کے سلامتی کونسل میں بھیجے جانے کے فیصلے کے بعد ایران اور برطانیہ کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد