’بم دھماکے میں ایران ملوث تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس سال عراق میں ایک بم دھماکے میں آٹھ برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ ایک سینیئر برطانوی افسر نے لندن میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایران کے انقلابی گارڈز پر اس بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلابی گارڈز نے جنوبی عراق کے اس شیعہ گروہ کو تکنیکی امداد فراہم کی تھی جس نے وہ دھماکہ کیا تھا۔ برطانوی حکام کی جانب سے اس دھماکے میں ایرانی کردار کا ذکر پہلے بھی کیا گیا تھا تاہم باقاعدہ طور پر الزام پہلی مرتبہ لگایا گیا ہے۔ برطانوی افسر نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومتِ ایران سے احتجاج بھی کیا گیا اور ایرانی حکومت نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ برطانوی افسر نے بتایا کہ ’یہ ٹیکنالوجی حزب اللہ کی تھی اور لبنان سے ایران اور وہاں سے عراق پہنچی اور اس کے نتیجے میں نہایت طاقتور دھماکہ خیز مواد تیار ہوا‘۔ افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقتدیٰ الصدر کی مہدی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے وہ بم دھماکا کیا تھا۔ افسر نے بتایا کہ اس ملیشیا کا ایک رہنما احمد الفتروسی برطانوی فوج کی حراست میں ہے۔ یاد رہے کہ اسی رہنما کی حراست کی وجہ سے بصرہ میں حالیہ فسادات ہوئے تھے۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اس وقت اس الزام کے سامنے آنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت جوہری معاملے کے سلامتی کونسل میں بھیجے جانے کے فیصلے کے بعد ایران اور برطانیہ کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||