فوجیوں کی رہائی کی کہانی پر شک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیر داخلہ باقر صالح جبر نے کہا ہے کہ وہ برطانوی حکام کے بصرہ میں دو ’برطانوی فوجیوں کی رہائی‘ کے بارے میں موقف سے متفق نہیں۔ باقر صالح جبر نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ مزاحمت کار پکڑے جانے والے برطانوی فوجیوں کو نئے مقام پر لے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کو تھانے کی عمارت سے باہر نہیں گئے تھے۔ پیر کو برطانوی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ انہوں نے بصرہ میں گرفتار ہونے والے دو برطانوی فوجیوں کو شیعہ جنگجوؤں کے قبضے سے رہا کرا لیا ہے۔ عراقی وزیر داخلہ نے کہا کہ برطانوی فوج نے افواہوں کی بنیاد پر کارروائی کی۔ دریں اثناء عراق کے وزیر اعظم ابراہیم الجعفری لندن میں برطانوی وزیر دفاع سے ملاقات کر رہے ہیں اور اب پیر کو بصرہ میں برطانوی فوجیوں کی رہائی کی متنازعہ کارروائی بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس اطلاع کے بعد اپنے فوجیوں کی رہائی کے لیے کارروائی کہ پولیس نے انہیں مزاحمت کاروں کے حوالے کر دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق برطانوی وزیر دفاع عراق کے وزیر اعظم کو بتائیں گے کہ فوجیوں کی جان بچانے کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی۔ برطانوی فوجیوں کی رہائی کے لیے بصرہ میں موجود فوجی دستوں نے بظاہر دو کارروائیاں کی جن میں سے ایک کے دوران جیل کی دیوار توڑی گئی جبکہ دوسری کارروائی میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں برطانوی وزارتِ دفاع کے بقول برطانوی فوجی موجود تھے۔ بصرہ کے گورنر الولی نے برطانوی فوجیوں کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’سفاکانہ‘ اقدام قرار دیا ہے۔ گرفتار شدگان دونوں فوجیوں کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ سادے کپڑوں میں فوج کے لیے مبینہ طور پر کام کرتے تھے اور انہوں نےمقامی پولیس پر گولیاں چلائی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||