عراق: اتفاق رائے کیلیے مزید وقت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی اسمبلی کے اسپیکر نے اعلان کیا ہے کہ آئین پر اتفاق کے لیے مذاکرات کاروں کو مزید تین دن کی مہلت درکار ہے۔ اس سےسلسلے میں بتایا گیا ہے کہ ارکان نے طے شدہ آخری مہلت ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک اور ملاقات کی اور اس میں مزید مہلت لینے پر اتفاق کیا۔ یہ اجلاس شیعہ ارکان کے جانب سے اس ڈرامائی اعلان کے بعد ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ مسودے پر ان میں اور کردوں میں اتفاق ہو گیا ہے۔ لیکن سنی ابھی مسودے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آئین عراق پر وفاقیت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس سلسلے میں کردوں کا بھی کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے مسودے کو قبول نہیں کریں گے جو سنیوں کو قبول نہ ہو۔ اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ شیعہ، سنی اور کرد نئے آئین کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے سے پہلے اتفاق رائے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تینوں گروہ اب تک اپنے اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عراق میں نئے آئین کے لیے دی گئی مہلت میں پہلے بھی ایک ہفتے کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ عراق کے نئے آئین میں تین اہم نکات جن پر بحث ہو رہی ہے وفاق کی نوعیت، تیل سے حاصل ہونے والی محصولات کی تقسیم اور شیعہ علماء کا کردار ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق بات چیت میں شریک بہت زیادہ پرامید رہنماؤں کا بھی خیال ہے آئین کے حتمی مسودے میں بھی کچھ سوالات حل طلب رہ جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||