’عراق کے لیے قربان ہوا ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے اخبارات میں صدام حسین کا ایک خط شائع ہوا ہے جو مبینہ طور انہوں نے قید خانے سے لکھا ہے۔ خط میں انہوں نے اپنے آپکو ’محبِ وطن‘ قرار دیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو عراق کے لیے دی جانے والی قربانی قرار دیا۔ ادھر عراقی حکومت کے وکلاء صدام حسین کے خلاف مقدمات کی تیاری میں مصروف ہیں اور خیال ہے کہ پہلے مقدمے کی سماعت اس سال ہی شروع ہوجائے گی۔ عالی ریڈکراس نے خط کومستند قرار دیا ہے۔ صدام حسین ایک خفیہ مقام پر زیر حراست ہیں۔ خیال ہے کہ گرفتاری کے بعد اٹھارہ میں عراق کے سابق صدر نے پہلی بار اپنے خاندان کے علاوہ کسی کو خط لکھا ہے۔ خط میں صدام حسین نے لکھا ہے کہ ’میں اور میرا خاندان اس قوم بشمول پیارے فلسطین اور محبوب، بد حال اور ثابت قدم عراق کے لیے اپنی قربانی پیش کرتے ہیں‘۔ خط کو پہلے صدام حسین کے ایک دوست کے حوالے کیا گیا جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بعد یہ خط عربی زبان کے اخبارات الدستور اور العرب الیوم میں شائع ہو گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||