صدام جیل میں کیا کرتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عراق کے صدر ہیں۔اُن پر صفائی کا بھوت سوار رہتا ہے اور وہ کافی بری بناتے ہیں لیکن ان کو ڈوریٹوز چپس بہت پسند ہیں۔ عراق کے برطرف صدر جنہیں قتل کے مقدمات کا سامنا ہے، اپنے کپڑے خود دھوتے ہیں اور جیل میں پرندوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ صدام حسین کے قید کے شب وروز کے بارے میں یہ باتیں امریکہ کے نیشنل گارڈ کے بیس سالہ اہلکار شین اوشیا نےمشہور رسالے ’جی کیو‘ سے بات چیت کے دوران بتائی ہیں۔ عراق کے سابق صدر کو دسمبر2003 میں تکریت کے شہر کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اگرچہ سرکاری طور پر صدام حسین عراقی حکومت کی تحویل میں ہیں لیکن حقیقتاً وہ ایک خفیہ مقام پر امریکی تحویل میں ہیں۔ اوشیا نیشنل گارڈ کے اُن پانچ اہلکاروں میں شامل ہیں جہنوں نے ’جی کیو‘ کو دنیا کے مشہور ترین قیدی کے ساتھ اپنی یادوں سے آگاہ کیا۔ شین اوشیا نے صدام حسین کے روزانہ کے معمولات مثلاً بیت الخلاء جانا، کھانا کھانا، تفریح کرنے کے علاوہ طبعی معائنے وغیرہ پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق صدام حسین کی جیل کی کوٹھری میں ایک بستر، ایک کرسی، چند کتابیں اور ایک جائے نماز رکھی ہوئی تھی۔
صدام حسین اکثر کئی دن اپنا سارا وقت خاموشی سے قانونی دستاویزات پر عربی زبان میں کچھ لکھنے میں گزار دیتے تھے۔ نیشنل گارڈ کے اہلکار نے یہ بھی بتایا کے کس طرح صدام حسین ہر روز پودوں کو پانی دیتے اور یہ کہ وہ صفائی کے معاملے میں اس قدر احتیاط کرتے کہ اپنے کھانے کے برتنوں کو کئی کئی دفعہ گیلے ٹِشو سے صاف کرتے۔ صدام حسین کو ورزش کے لیے ایک ’ٹریڈ مِل‘ بھی دی گئی تھی لیکن وہ انہیں پسند نہیں تھی۔ ٹریڈ مِل کی بجائے انہوں نے ٹیبل ٹینس کی میز کا مطالبہ کیا لیکن ان کی یہ درخواست رد کر دی گئی۔ صدام حسین کو ’چیٹوز‘ نامی چپس پسند تھے لیکن ایک روز کوئی اُن کے لیے ’ڈوریٹوز‘ لے آیا جو اُن کو اتنے پسند آئے کہ وہ کمرے کے کونےمیں جا بیٹھے اور انہیں جلدی جلدی کھا لیا۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکے ہیں تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تکریت کے کسان کے بیٹے نےحوصلہ نہیں گنوایا۔ صدام کو کیوبا کے سگار پسند ہیں اور کبھی کبھار وہ اوشیا کو مشورے دینے سے بھی نہیں کتراتے۔ ان کے مشوروں میں یہ بھی شامل ہوتا تھا کہ ایک’اچھی عورت‘ کی تلاش کیسے ہوتی ہے اور پھر اس عورت کو کیسے ’قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔‘ صدام حسین نے یہ کہانی بھی سنائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے اودے کی شادی پر اس کے لیے کیسےطوائفوں کا بندوبست کیا۔ نیشنل گارڈ کے اہلکار نے اس واقعہ کے بارے میں بھی بتایا جب صدام حسین عراقی تفتیشی حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں دلبرداشتہ ہو گئےاور بات چیت چھوڑ کر اپنے وزراء کو پکارنے لگے۔ اوشین کے مطابق جب انہوں نے صدام حسین کو بتایا کہ کہ صدر رونالڈ ریگن، جو انہیں جہاز اور ہیلی کاپٹر فروخت کیا کرتے تھے، وفات پا گئے ہیں تووہ خاموش سے ہو گئے۔تاہم اُن کے خلاف جنگ کرنے والے بُش سینئر اور اُن کے بیٹے جارج بُش صدام حسین کی نظر میں زیادہ اہم نہیں۔
قطع نظر اس کے کہ وہ بُش کو کیا سمجھتے ہیں صدام حسین صدر بُش سے ’امن قائم کرنے کے لیے‘ ملاقات کی خواہش رکھتے تھے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن صدام حسین کوجیل میں جس حقیقت کا سامنا ہے وہ کوئی زیادہ دلکش نہیں۔وہ شخص جو بیش بہا دولت اور شاندار محلات کی زندگی کا عادی تھا اب اس کو رفع حاجت کے لیے بھی نیشنل گارڈ کےایک معمولی اہلکار کی نظروں کے سامنے بیٹھنا پڑتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||