BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیعوں کے قتل عام کا پہلا مقدمہ
صدام حسین
صدام حسین پر الزامات کی فہرست بہت طویل ہے
عراق کے سابق صدر صدام حسین کے مبینہ جرائم کی تحقیقات کرنے والے خصوصی ٹرائبیونل نے کہا کہ صدام حسین کے خلاف مقدمہ شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان آئندہ چند دنوں میں کر دیا جائے۔

تحقیقاتی ٹرائبیونل کے جج رائد الجوحي، نے کہا ہے کہ مقدمہ کی سماعت متوقع طور پر چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صدام حسین کے مبینہ جرائم کے ثبوت بیس لاکھ دستاویزات، سات ہزار گواہوں کے بیانات اور اجتماعی قبروں سے حاصل ہونے والےشواہدات پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا سب سے پہلے صدام حسین اور تین دیگر ملزماں کے خلاف انیس سو بیاسی میں بغداد کے شمال میں عرب شیعوں کے گاؤں دوجیل میں قتل عام کے الزامات کا سامنا کرنے پڑے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کیرولین ہاؤلی نے کہا ہے کہ صدام حسین کے خلاف یہ الزام ان کے خلاف الزام کی فہرست میں سنگین نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ میں تحقیقات اس نہج پر پہنچ چکی ہیں کہ انہیں عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

صدام کےعلاوہ اس مقدمہ میں صدام کے برادرِنسبتی بارزن ابراھیم الحسین ، سابق نائب صدر طحہ یاسین رمضان اور عراق کے سابق اعلی ترین جج اواد بدر البندر بھی ملزم ہیں۔

شیعہ آبادی والے اس گاؤں میں صدام حسین پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں اور پیدل افواج نے حملہ کرکے ایک سو چالیس دیہاتیوں کو ہلاک کر دیا تھا اور سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

66غیر سرکاری صدام
انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی غیر سرکاری تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد