تیل برائے خوراک: سربراہ مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تیل برائے خوراک پروگرام کے سابق سربراہ نے اقوام متحدہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مسٹر بینن سیوان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان پر انہیں قربانی کا بکرا بنانے کا الزام لگایا ہے۔ مسٹر بینن سیوان نے اپنا استعفیٰ تیل برائے خوراک پروگرام پر تیار کی جانے والی تیسری رپورٹ کے سامنے آنے سے ایک دن پہلے دیا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ رپورٹ میں اس پروگرام میں مبینہ بد عنوانیوں پر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ مسٹر سیوان کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ان پر یہ غلط الزام ہو گا کہ وہ تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت ایک ایک کمپنی کو تیل کے کنٹریکٹ دلواتے رہے ہیں اور اس کے بدلے رشوت وصول کرتے رہے ہیں۔ سیکرٹی جنرل کوفی عنان کے دفتر سے ابھی اس استعفے پر ابھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ تیل برائے خوراک پروگرام کے تحت عراق کے سابق صدر صدام حسین کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ تیل فروخت کر کے خوراک جیسی بنیادی ضروریات خرید سکتے ہیں۔ اور اس طرح عراق پر لگی پابندیوں کے عوام پر مضر اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ مسٹر سیوان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ سیکرٹری جنرل کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے خلاف الزامات جھوٹے ہیں۔ اس سے پہلے ایک رپورٹ مںی مسٹر سیوان پر اس پروگرام کے حوالے سے بد عنوانی کا الزام تھا۔ پچھلی رپورٹ کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||