’تیل کی آمدنی میں گڑبڑ ہوئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی تیل کی صنعت کا جائزہ لینے والے اقوام متحدہ کے ایک پینل نے کہا ہے کہ عراق کی عبوری انتظامیہ کے دور میں تیل کی صنعت بد انتظامی، اسمگلنگ اور بے ضابطگیوں کا شکار رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل ایڈوائزری بورڈ نے عراق میں امریکہ کی عبوری انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تیل کی صنعت کو مناسب طور پر کنٹرول نہیں کر سکی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے یہ الزام ایک ایسے وقت عائد کیا گیا ہے جب صدام حسین کے دور میں جاری کیے جانے والے ’تیل کے بدلے خوراک‘ کے پروگرام میں مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائی جارہی ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ بورڈ عراق کے ترقیاتی فنڈ کا معائنہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ فنڈ امریکی کی عبوری انتظامیہ کے زیر انتظام تھا اور اس میں تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی اور صدام حسین حکومت کے چھوڑے ہوئے اثاثے جمع کئے جاتے تھے۔ اس بورڈ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ اس فنڈ کے انتظام میں اہم کمزوریاں پائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی آمدنی سے حاصل رقوم پر مناسب کنٹرول نہیں کیا گیا اور تیل کی پیدوار کا بھی حساب کتاب نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنی ہیلی برٹن کو بغیر ٹینڈر کے ٹھیکے دیے گئے۔ امریکی قیادت میں قائم عبوری انتظامیہ نے بورڈ کو بتایا کہ تیل کی بڑی مقدار میں اسمگلنگ بھی ہوئی۔ بورڈ نے کہا کہ تیل برائے خوراک سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی کا حساب موجود ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||