صدام حکومت نے21 ارب ڈالر کمائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدام حسین کی حکومت نے عراق پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوران تیل کی فروخت کے ذریعے اکیس ارب ڈالر کمائے تھے۔ اس سے پہلے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق صدام حسین کی حکومت نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوران تیل کی فروخت پر گیارہ ارب ڈالر بنائے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق تیرہ ارب ڈالر پڑوسی ملکوں کو تیل کی خرید و فروخت کے ذریعے کمائے جبکہ باقی رقم انہوں نے انسانی ہمدردی کے تحت دی جانی والی خوارک اور دوائیوں پر بنائی ۔ رپورٹ کے تحت اس ’غیر قانونی‘ آمدنی سے فائدہ اٹھانے والوں میں حکومتی وزیر، اقوام متحدہ کے کئی اعلی اہلکاروں اور فرانس کے کئی سیاستدان اور کمپنیاں شامل ہیں۔ فائدہ اٹھانوں والوں میں اقوام متحدہ کے تیل برائے خوارک پروگرام کے انچارج بنن سیوان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔ امریکی سینٹ نے کہا ہے کہ صدام حکومت کی کرپشن ایک پیاز کی ماند ہے جونہی ایک تہہ اتاری جاتی ہے نیچے سے ایک اور تہہ برآمد ہو جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||