عراق:تیل کےٹھیکوں پربولی شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی عبوری حکومت جنگ کے بعد تیل کی پیداوار کے پہلے تین ٹھیکوں کا فیصلہ اگست کے آخر تک کر ے گا۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئرش فرم پیٹرل نے تصدیق کی ہے کہ اس نے تین ٹھیکوں کے لیے بولی لگائی ہے۔ کمپنی کے سیکرٹری جم فن نے بی بی سی نیوز آن لائن کو بتایا کہ مارچ اور مئی کے درمیان کمپنی نے تین ٹینڈر دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا گو عراق میں امن وامان کی صورتحال ٹھیک نہیں پھر بھی پیٹرل نے بغداد میں دفتر بھی کھلا رکھا ہے اور وہاں لوگ بھی موجود ہیں۔ ادھر شیل کمپنی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ کم از کم ان تین ٹھیکوں کی بولی میں حصہ نہیں لے رہی۔ بڑی کمپنیاں ٹھیکوں کے چھوٹے ہونے اور ملک کی امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے دلچسپی نہیں لے رہی ہیں۔ اسی طرح بی پی کمپنی کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے بھی ان ٹھیکوں کے لیے بولی میں حصہ نہیں لیا۔ یہ پہلے تین پراجیکٹ ملک کے شمال میں کھرمالا ڈوم، ھامرین اور جنوب میں صبع لوہائس کے تیل کے کنوؤں کے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تیل کی پیدوار کے لیے اور منصوبوں کے ٹینڈر بھی جلد ہی طلب کیے جائیں گے۔ سعودی عرب کے بعد عراق دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ہے لیکن کئی سال کی پابندیوں کی وجہ سے وہاں ترقی رکی رہی۔ عبوری حکومت موجودہ پیداوار بڑھا کر پچیس لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا چاہتی ہے۔ لیکن تیل کے پائپ لائینوں پر حملوں کی وجہ سے اس کی ترقی میں رکاوٹیں آجاتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||