سلامتی کونسل کا توسیعی منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برازیل کی قیادت میں چار ممالک نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کا منصوبہ باقاعدہ طور پر پیش کردیا ہے۔ اِن چار مما لک میں برازیل کے علاوہ جرمنی، جاپان اور بھارت بھی شامل ہیں اور انہیں جی فور کہا جاتا ہے۔ یہ جی فور ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید دس ارکان کا اضافہ چاہتے ہیں جس میں سے چھ مستقل رکن ہوں گے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ مجوزی مستقل رکنیت ان جی فور ممالک سمیت افریقی ممالک کو بھی دیا جائے۔ یہ تجویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی جہاں اسے نافذ العمل ہونے کے لئے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ برازیل کا کہنا ہے کہ انیس سو پینتالیس میں قائم ہونے والا اقوام متحدہ کا ڈھانچہ اب فرسودہ ہوچکا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچے توسیع کے معاملے پر کافی حمایت پائی جاتی ہے مگر اس معاملے پر اختلافات بھی بہت شدید ہیں۔ اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان ہیں جن میں سے پانچ مستقل ہیں جنہیں ویٹو کا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ میں برازیل کے نمائندے رونالڈو موٹو کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو نئے زمانے کا ساتھ دینا ہو گا اور موثر طور اپنا کردار ادا کرنے کے لیے عالمی ادارے میں بڑے پیمانے پر اصلاعات کی اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سلامتی کونسل کے ارکان میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر اکرم کے مطابق اقوام متحدہ کی اصلاعات کے سلسلے میں منقسم ووٹ کے بجائے فیصلہ کن مذاکرات کی ضرورت ہے اور مذاکرات کے ذریعے ہی خودمختار ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کا نیا عہد شروع ہو سکتا ہے جو اکیسویں صدی کی ضرورت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||