قرارداد: انڈیا، بنگلہ دیش کا خیر مقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں انتقال اقتدار کے لئے اقوام متحدہ کی نئی قرارداد کا ساری دنیا کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے ممالک نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اس قرارداد کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کے کردار کو تقویت ملی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ عراق میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ ’ہم عبوری حکومت کی توثیق کو عراق میں مکمل حاکمیت کی منتقلی کی طرف پہلے قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘ ترجمان کے مطابق انڈیا کے عراق کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں اور وہ مستقبل میں عراق میں حکومت سازی اور سیاسی ڈھانچے کی تشکیل میں عراق کی مدد کریں گے۔ بنگلہ دیش نے بھی اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے صحیح سمت میں قدم قرار دیا ہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے پچھلے ہفتے بنگلہ دیش کے دورے پر وزیر خارجہ مرشد خان سے عراق کی صورتحال پر مذکرات کئے تھے۔ مسٹر مرشد نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے فوجی صرف اقوام متحدہ کے زیر انتظام عراق میں کسی قسم کی مدد فراہم کرسکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||