عراقی خودمختاری: حمایت کا خیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی مستقبل اور عراقیوں کی مکمل خود مختاری کی قرار داد اقوام متحدہ میں مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی ہےئ قرار داد کے حق میں پندرہ ووٹ آئے اور کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔ اس اتفاق رائے سے پہلے امریکہ اور برطانیہ نے قرارداد کے مسودے پر نظر ثانی کی اور اس میں کئی تبدیلیاں کیں تھیں۔ یہ قرارداد اس وقت منظور ہوئی جب سب سے زیادہ ترقی یافتہ آٹھ ملکوں، جی ایٹ کا سربراہی اجلاس امریکی ریاست جیورجیا میں شروع ہوا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی برادری عراق کے عوام کی مدد کرنے کا پورا عزم رکھتی کہ وہ اپنےمعاملات اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قرارداد کے تحت نئی عراقی حکومت کو مکمل خودمختاری منتقل کی جائے گی۔ صدر بش نے قرارداد کو ایک سنگِ میل اور عراقی عوام کی فتح قرار دیا۔ صدر بش نے قرارداد منظور کرانے میں روس کے صدر پوٹن کی کوشش کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم بلیئر نے کہا ہے کہ کثیرالقومی فوج عراق میں نئی حکومت مدد کے لیے موجود رہے گی اور عراق کو سلامتی کے ذمہ داریاں بتدریج منتقل کی جائیں گی۔ قرارداد کے تحت نئی عراقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ امریکی قیادت میں کثیرالقومی فوجوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے سکتی ہے اگرچہ اس کا امکان بہت کم ہے۔ قرارداد کی منظوری اس لۓ ممکن ہوئی کہ امریکہ اور برطانیہ نے نازک فوجی کارروائیوں کے بارے میں عراقی حکومت اور امریکی زیر قیادت فوجوں کے درمیان تعلقات کی کھل کر وضاحت کردی۔ ووٹنگ کے بعد سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ گزشتہ سال کے تلخ اختلافات کے بعد اب یہ قرارداد بین الاقومی برادری میں اتحاد کے لیے دلی خواہش کا اظہار ہے۔ اس سے قبل صدر بش نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ عراق کے مستقبل پر اقوامِ متحدہ کی نئی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور ہو جائے گی اور یہ اتفاق رائے ایک اہم پیش رفت ہو گا۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا تھا جب ان ممالک نے بھی امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے پیش کی جانے والی قرار داد کی حمایت کا اعلان کیا تھا جو اس سے پہلے اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک نے کا کہنا تھا کہ وہ سلامتی کونسل میں عراق کے مستقبل سے متعلق نئی قرارداد کی حمایت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||