عراق: ممبر پارلیمنٹ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تشدد کے مختلف واقعات میں ایک کرد ممبر پارلیمنٹ ہلاک اور ایک زخمی ہو گئے ہیں۔ عراقی حکام کے مطابق پیٹریوٹک یونین آف کرد پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو ممبران پارلیمنٹ فارس حسین اور حیدر قاسم کی کار پر چھپ کر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ بغداد کی طرف آرہے تھے۔ فارس حسین ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے ساتھ سفر کرنے والے حیدر قاسم اور ان کے ذاتی محافظ بھی زخمی ہوئے۔ عراق میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز سوموار سے کربلا میں شروع ہونے والے مذہبی اجتماع کی وجہ سے ہائی الرٹ پر ہیں۔ شیعہ زائرین کربلا میں ہونے والے مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے کربلا پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ادھر مقتدیٰ الصدر کی المہدی آرمی نے بصرہ میں ایک مظاہرہ کیا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کے حامی شعیہ رہنماء احمد الفرتوسی کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے جن کو برطانوی فوجیوں نے گرفتار کر رکھا ہے۔ برطانوی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے احمد الفرتوسی کو بصرہ کے قریب اتحادی فوجوں پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا ہے۔ سنیچر کو بغداد کے مضافات میں ہونے والے خود کش بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہو گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||