عراق: آئینی مسودہ پیش کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنّی رہنماؤں کے اعتراضات کے باوجود عراقی آئین مسودہ پارلیمان میں پیش کردیا گیا ہے۔ آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے ایک رکن نے پارلیمان میں یہ مسودہ پڑھ کر سنایا جس کے بعد ایوان کی کارروائی اس پر مسودے پر بنا ووٹنگ کیے ملتوی کر دی گئی۔ اس آئین کی منظوری کا فیصلہ عراقی عوام اکتوبر میں ہونے والے ریفرنڈم میں کریں گے۔ اور سنّیوں کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کے بعد اس بات کا زیادہ امکان نہیں کہ یہ آئین نافذ ہو سکے گا۔ آئین کے نفاذ کے لیے اسے ملک بھر سے عراقی عوام کی اکثریتی حمایت کی ضرورت ہے اور یہ مسودہ کو تین سے زیادہ صوبوں میں دو تہائی سے زیادہ مخالفت کا سامنا بھی نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمان میں پیش کیے جانے سے قبل عراق کا آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے اراکین نے نئے آئین کے مسودے پر دستخط کیے لیکن دستخط کرنے والوں میں سنّی عرب ممبران شامل نہیں تھے۔ عنّی عرب ممبران آئین کی ان شقوں کے مخالف ہیں جن کے تحت بعث پارٹی کے سابق ممبران کو کسی بھی قسم کے سرکاری عہدے پر مقرر نہ کرنے اور ملک کو وفاقی نظامِ حکومت کی جانب لے جانے کا ذکر ہے۔ عراق کے ایک سینیئر سنّی مذاکرات کار نے سنیچر کو عراقی آئین کی تیاری کے سلسلے میں کرد اور شیعہ رہنماؤں کی جانب سے تیار کی جانے والی دستاویز مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے اس دستاویز کو ملک کے لیے خطر ناک قرار دیا تھا۔صالح المطلاق نے تیل اور پانی کی تقسیم کے طریقوں پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ملک کے بٹوارے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تنازعہ کا اہم ترین نکتہ وفاقی طرز حکومت کے بارے میں سنیوں کا اعتراض ہے۔ سنٰی عرب کرد اور شیعہ آبادی کو خودمختاری دینے کے مخالف ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس عمل سے ملک تقسیم ہو جائے گا۔ سنیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس عمل سے ان کو تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر فرق پڑے گا۔ عراقی حکومت میں شامل پانچ سینیئر سنّی عرب رہنماؤں نے بھی اس آئینی مسودے کی مخالفت کی ہے اور اس دستاویز پر تیرہ اعتراضات اٹھائے ہیں۔ عراق میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے عراقی آئین کی تیاری کے سلسلے میں جاری ڈیڈ لاک توڑنے کے لیے ہفتے کو عراقی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے عراقی شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کے حل میں مدد کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||