BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 August, 2005, 01:28 GMT 06:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن یا تشدد:عراقی سُنیوں کو انتباہ
صدر بُش
فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کرنے والے امریکہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
عراق میں آئینی مسودے پراختلافات برقرارلیکن امریکی صدر کا سنیوں کو انتباہ کہ ان کو تشدد اور امن میں سے کسی ایک انتخاب کرنا ہے۔

عراق میں نئے آئینی مسودے پر عراقی رہنماؤں کے مذاکرات جاری تو ہیں لیکن اختلافات اب بھی برقرار ہیں کہ قانون سازی میں اسلام کا مقام کیا ہے، ملک وفاقی طرز پر چلے یا مضبوط مرکز کے ساتھ اور یہ کہ تیل کی آمدنی کی تقسیم کیسے ہو؟

تاہم دوسری جانب امریکی صدر بش نے عراق کے سنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تشدد اور امن میں سے ایک راستہ اختیار کریں۔ سنیوں کو موجودہ آئینی مسودے پر سخت اعتراضات ہیں۔

بی بی سی کے واشنگٹن میں نامہ نگار اولیور کونوے کے مطابق امریکہ میں جنگ عراق کے بڑھتے ہوئے نقصانات پر تشویش میں اضافہ ہورہا ہے اور اسی بناء پر بش انتظامیہ آئین کی تیاری کو ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کرنے میں بہت دلچسپی لے رہی ہے۔

یہ معاملہ خود صدر بش کے لیے بھی سیاسی طور پر بہت اہم ہے۔ ریاست آئیڈاہو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک بہت بڑا واقعہ رونما ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو صرف آمریت سے واقف تھا وہاں ایک ایسے آئین کی تیاری ہورہی ہے جس میں اقلیتوں اور خواتین کے حقوق اور مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔‘

یہ تھے صدر بش کے الفاظ جنہوں نے عراق کی صورتحال کو امید افزاء قرار دیا اور کہا کہ عراق کے واقعات مشرق وسطٰی میں ایک نئے آغاز کی بنیاد رکھیں گے۔

آئینی مسودے کے حوالے سےصدر بش نے سنی عربوں کو انتباہ کیا کہ ان کو تشدد اور امن میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن ملک میں رہ سکیں۔

امریکہ میں جنگ عراق کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور وہاں ہلاک ہونے والے ایک فوجی کی ماں سنڈی شیہان کی جانب سے ٹیکساس میں اپنی رانچ پراحتجاجی مظاہرے کو مسترد کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ’میں احتجاج کے حق کی حمایت کرتا ہوں۔ ملک میں بہت سے نقطۂ نظر ہیں اور لوگ احتجاج کررہے ہیں۔ خود میں بھی ایسے بہت سے فوجیوں کے اہل خانہ سے مل چکا ہوں اور میرے خیال وہ اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتیں‘۔

صدر بش نےعراق سے فوجیں واپس بلانے یا اس کی کوئی تاریخ دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس طرح کی پالیسوں کا مطالبہ کرنے والے امرکہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد