BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 August, 2005, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق سے انتقامی جذبات ابھرے‘
 لندن
سات جولائی کے حملوں نے لندن کو ہلا کر رکھ دیا تھا
برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک اعلیٰ ترین اہلکار نے ایک برس قبل برطانوی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ عراق جنگ کی وجہ سے ملک میں اسلامی شدت پسندی کے خیالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانوی اخبار ’آبزرور‘ کو ملنے والی دستاویز کے مطابق دفترِ خارجہ کے مستقل سیکریٹری مائیکل جے نے مئی 2004 میں یہ تنبیہ جاری کی تھی۔

کابینہ سیکریٹری سر اینڈریو ٹرن بل کو لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اسلامی شدت پسند گروہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔

اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ’ دنیا بھر کے مسلمانوں پر برطانوی خارجہ پالیسی کے منفی اثرات نوجوان برطانوی مسلمانوں میں غصے اور جوش کو ابھارنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں‘۔

لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے خارجہ امور کے ترجمان مینزیس کیمبل کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ حکومت اس وقت کچھ نہ کر سکتی ہو لیکن میرا خیال ہے کہ یہ خط اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سات جولائی کے دھماکوں اور اکیس جولائی کے ناکام حملوں کی وجوہات نہایت پیچیدہ ہیں اور یہ صرف ایک مختلف نظریات کا معاملہ نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد