’عراق سے انتقامی جذبات ابھرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک اعلیٰ ترین اہلکار نے ایک برس قبل برطانوی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ عراق جنگ کی وجہ سے ملک میں اسلامی شدت پسندی کے خیالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی اخبار ’آبزرور‘ کو ملنے والی دستاویز کے مطابق دفترِ خارجہ کے مستقل سیکریٹری مائیکل جے نے مئی 2004 میں یہ تنبیہ جاری کی تھی۔ کابینہ سیکریٹری سر اینڈریو ٹرن بل کو لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اسلامی شدت پسند گروہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں۔ اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ’ دنیا بھر کے مسلمانوں پر برطانوی خارجہ پالیسی کے منفی اثرات نوجوان برطانوی مسلمانوں میں غصے اور جوش کو ابھارنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں‘۔ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے خارجہ امور کے ترجمان مینزیس کیمبل کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ حکومت اس وقت کچھ نہ کر سکتی ہو لیکن میرا خیال ہے کہ یہ خط اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سات جولائی کے دھماکوں اور اکیس جولائی کے ناکام حملوں کی وجوہات نہایت پیچیدہ ہیں اور یہ صرف ایک مختلف نظریات کا معاملہ نہیں ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||