مسلمان دہشتگردی پرضرب لگائیں:پوپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کا دورہ کرنے والے کیتھولک چرچ کے پیشوا پوپ بیناڈ کٹ نے جرمنی میں آباد مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی پر کاری ضرب لگائیں۔ نئے پوپ چار ماہ قبل اپنے انتخاب کے بعد سے اپنے بیانات میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ لندن میں حالیہ بمبار حملوں کے سلسلےمیں انھوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ ایسے حملے کرنے والے سچے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ سنیچر کو انہوں نے جرمنی میں مقیم مسلمان برادری کے مقامی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ اور گھناؤنا فعل قرار دیا۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر دہشت گردی کو نہ روکا گیا تو دنیا بربریت کے ایک نئے اور سیاہ دور میں داخل ہوجائیگی۔ ملاقات میں کوئی تیس کے لگ بھگ مقامی رہنما شریک تھے جو زیادہ تر ترک النسل مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پوپ نے ماضی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا دونوں اللہ کے نام پر ایک دوسرے کوایسے قتل کرتے رہے، جیسے اللہ ان کے اس عمل پر ان سے خوش ہوگا۔ پوپ نے کہا ہمیں ماضی کے ایسے واقعات پر شرمسار ہونا چاہیے۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر کس قدر ظلم روا رکھا گیا۔ انھوں نے جرمنی کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ مسلمانوں کی ائندہ نسلوں کو ذمےداری اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان گفت و شنیدکومحض رسمی طور پر نہ لیا جائے بلکہ اس پر ہم سب کے مستقبل کا دارومدار ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||