پوپ کے بیان پر اسرائیل کو اعتراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے ویٹیکن کے سفیر کو طلب کر کے پوپ کے اس بیان پر وضاحت طلب کی ہے جس میں انہوں نے دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیل کا نام نہیں لیا تھا۔ پوپ بینیڈک نے اتوار کو عراق، ترکی، مصر اور برطانیہ میں دہشت گردی کی وارداتوں کی مذمت کی تھی۔ اسرائیل نے کہا کہ پوپ نتینیا کا نام لینے سے چوک گئے جہاں بارہ جولائی کو ایک دہشت گرد حملے میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ ملکوں کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیل کا ذکر نہ کرنا اسرائیل کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو جائزہ قرار دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ نئے پوپ کا جہنوں نے پوپ کا حلف لیتے ہوئے کلیسیاء اور یہودیوں میں بہتر تعلقات کی اہمیت پر زور دیا تھا، رویہ مختلف ہو گا۔ ویٹیکن نے اسرائیل کے اس بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ پوپ بینیڈک نے اسرائیل کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کر لی ہے لیکن انہوں نے ابھی تک اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||