غزہ: اسرائیل کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ یہودی بستیوں پر فلسطینی راکٹ حملے روکونے کی ’ہر ممکن کوشش‘ کریں گے۔ دوسری طرف فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غیر سرکاری جنگ بندی پر قائم ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب غزہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان راکٹ حملوں کو روکنے کے لئے زمینی آپریشن شروع کرسکتا ہے۔ فلسطینی عسکریت پسند اور اسرائیلی فوج ایک مہینے جاری رہنے والے امن کو توڑنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہے ہیں۔ اتوار کے روز دو یہودی بستیوں پر فلسطینی حملوں سے کئی اسرائیلی زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایک فلسطینی کو اس وقت ہلاک کردیا جب وہ ایک اور یہودی بستی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ حالیہ دنوں میں حماس کی طرف سے یہودی بستیوں پر اور ان کے آرد گرد ایک سو سے زیادہ حملے کئے جا چکے ہیں۔ ان حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نےغزہ میں حماس کےایک کمانڈر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ غزہ کے جنوبی قصبےخان یونس میں پیش آیا۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے حالیہ تشدد کا الزام اسرائیل پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی لیکن اگر اسرائیل نے غزہ میں زمینی آپریشن شروع کیا تو امن کے سلسلے میں کی گئی پیش رفت پر بہت برا اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غیر سرکاری جنگ بندی پر قائم ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حماس کے بیان سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تنظیم گزشتہ چند دنوں کے تشدد کے بعد امن کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حماس آخری حد تک پہنچ چکی ہے اور وہ نہیں چاہتی کے اسرائیلی حملے کی صورت میں اسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||