BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 02:59 GMT 07:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یروشلم سربراہی اجلاس میں مایوسی
ایرئیل شیرون
دو مزید شہر خالی کرنے کی پیشکش
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون کے درمیان یروشلم میں سربراہی ملاقات میں بظاہر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

اسرائیل وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے دو ہفتوں کے اندر تشدد روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا ثبوت ملنے پر وہ دو مزیر شہر خالی کر سکتے ہیں۔

اسرائیل نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اس میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

لیکن فلسطینیوں نے اس ملاقات کے بعد مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔

سربراہی ملاقات میں اگست میں اسرائیل کے غزہ سے انخلاء میں ایک دوسرے سے تعاون کے بارے میں بات چیت ہونی تھی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو کھولنے کی تیاری شروع ہو سکتی ہے۔

فلسطینی وزیر اعظم احمد قرئی نے رام اللہ میں ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ یہ ایک مشکل ملاقات تھی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پر مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کا اشارہ فلسطینیوں کی ہوائی اڈوں تک رسائی، مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غرب اردن میں پھیلتی ہوئی یہودی بستیاں۔

یروشلم ملاقات سے قبل 50 کے لگ بھگ فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیل کی سکیورٹی افواج نے ان فلسطینیوں کو غرب اردن سے حراست میں لیا۔

فلسطینی رہنما محمود عباس کے انتخاب کے بعد یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری ملاقات تھی۔ تاہم یروشلم میں یہ دونوں کے درمیان پہلی ملاقات ہے۔

یہ گرفتاریاں دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے پہلے کی گئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ذرائع کے مطابق عسکریت پسند تنظیم اسلامی جہاد کے پچاس کے قریب کارکنوں کو رات گرفتار کر لیا گیا تھا۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات چودہ افراد کو رام اللہ، قلقلیہ اور جنین سے گرفتار کیا گیا جبکہ چھتیس کو ہیبرون اور بیت اللحم سے حراست میں لیا گیا۔

اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں اس لیے کی گئیں کہ اسلامی جہاد نے فروری میں ہونے والی مفاہمت کو قبول نہیں کیا۔

ادھر اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ حملے اس لیے کیے ہیں کہ اسرائیل نے فائر بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔

اسرائیلی فوج کے ایک سینئیر اہلکار کرنل ایریز وینر نے کہا ہے کہ اب اسلامی جہاد کے خلاف کوئی نرمی برتی نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اس تنظیم کے ساتھ جو بھی منسلک ہوگا اس کو اسرائیلی فوج نشانہ بنائے گی۔

یہ چھ ماہ میں کے اندر اسلامی جہاد پر اس پیمانے پر ہونے والی پہلی ایسی کارروائی ہے اور یہ اسرائیلی نشانوں پر کئی حملوں کے کچھ روز بعد آئی ہے۔ حملوں میں دو اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی جہاد نے چھ ماہ قبل طے ہونے والے امن معاہدے پر عمل نہیں کیا ہے اور یہ گرفتاریاں اس حالیہ تشدد کے جواب میں کی گئی ہیں ۔

تاہم اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں امن معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔

اسلامی جہاد کے ایک ترجمان نے فلسطینی قیادت سے کہا ہے کہ ان کو بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کو منسوخ کر دینا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد