الاقصیٰ میں جھڑپ اور کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی پولیس نے یروشلم میں الاقصی میں پر فلسطینی نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے پیر کی صبح ’سٹن گرینیڈ‘ داغے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان وہاں آئے ہوئے یہودیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے۔ یہ واقعہ پیر کو اسرائیل کے ’یومِ یروشلم‘ کے موقع پر ہوا۔ یہ دن اسرائیل کے مشرقی یروشلم پر قبضے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اس موقع پر سخت سکیورٹیی انتظامات کر رکھے تھے اور تقریباً تین ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا۔ کچھ یہودی افراد گنبدِ سخرا کا دورہ کر رہے تھے کہ مسجد الاقصے سے نکلنے والے سینکڑوں فلسطینیوں نے نعرے لگاتے ہوئے ان یہودیوں پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ پولیس نے سٹن گرینیڈ داغے اور فلسطینیوں کو مغربی دیوار سے دور کیا اور ان کو مسجد کے احاطے میں جانے پر مجبور کیا۔ ‘ تاہم عربی ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘ نے اس واقعے کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ’یہودی انتہا پسندوں نے الحرم القدس الشریف کے احاطے میں دھاوا بول دیا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||