BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 November, 2004, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرفات الاقصیٰ کی مٹی میں دفن
رملہ
یاسر عرفات کی قبر میں یروشلم سے لائی گئی مٹی ڈالی جا رہی ہے
یاسر عرفات کو ہزاروں جذباتی اور غمزدہ فلسطینیوں کی موجودگی میں رملہ میں اسی کمپاؤنڈ میں دفن کر دیا گیا ہے جس میں پچھلے ڈھائی برس سے وہ نظر بندی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی قبر کے لیے مٹی مسجد الاقصیٰ سے لائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ یاسر عرفات کی خواہش تھی کہ انہیں یروشلم میں دفن کیا جائے لیکن اسرائیل نے اس کی اجازت نہیں دی۔

یاسر عرفات کی میت کے لیے پتھر اور سنگ مر مر کی قبر بنائی گئی ہے۔

اس سے پہلے رملہ میں ہزاروں افراد نے یاسر عرفات کی میت کا استقبال کیا تھا۔ اس ہیلی کاپٹر کو دیکھتے ہی جس میں یاسر عرفات کی میت تھی لوگوں نے پولیس کا حصار توڑ دیا۔


لوگوں نے فلسطینی جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور مسلسل نعرے بازے کر رہے ہیں۔ فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اردن کے ایک ڈاکٹر اشرف الکردی نے، جنہوں نے دو ہفتے قبل یاسر عرفات کا معائنہ کیا تھا، کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ ان کی موت زہر دینے کی وجہ سے واقع ہوئی ہو۔

تاہم فلسطینی وزیر خارجہ نبیل شعت نہ کہا ہے کہ فرانسیسی ڈاکٹروں نے اس امکان کو خارج کردیا تھا۔ فرانس کے ملٹری ہسپتال نے، جہاں یاسر عرفات کا زیر علاج تھے، ان کی موت کی وجوہات میڈیکل ریکارڈ خفیہ رکھنے کے فرانسیسی قانون کی وجہ سے نہیں بتائیں ہیں۔

یاسر عرفات کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد ہی رملہ میں دن رات کام کر کے ان کے لیے مقبرہ تیار کیا گیا تھا۔

قاہرہ میں جنازے کے بعد فلسطینی رہنما کی میت جہاز پر جزیرہ نما سینا لائی گئی تھی وہاں سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے رملہ لایا گیا تھا۔

News image
قاہرہ میں دنیا بھر سے صدور، وزراء اعظم اور عمائدین نے یاسر عرفات کے جنازے میں شرکت کی۔

فرانس سے آمد پر یاسر عرفات کی میت کا قاہرہ میں فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال کیا گیا تھا اور سلامی پیش کی گئی تھی۔

قاہرہ میں یاسر عرفات کے جنازے میں مصر کے صدر حُسنی مبارک کے علاوہ اردن کے شاہ عبداللہ، شام کے صدر بشر الاسد اور کئی دوسرے ممالک کے صدور اور وزراء اعظم شریک تھے۔ ان میں جنوبی افریقہ کے صدر تھابو امبیکی، بنگلہ دیش کے صدر یاج الدین احمد، تیونس کے صدر زین العابدین بن علی اور انڈونیشیا کے صدر شامل تھے۔

سویڈن ، پاکستان، سری لنکا کی نمائندگی ان کے وزرائے اعظم نے کی۔ برطانیہ، ترکی، بھارت، جرمنی اور فرانس ان ممالک میں شامل ہیں جن کے وزرائے خارجہ جنازے میں شریک تھے جبکہ امریکہ نے اپنے ایک نائب وزیر خارجہ ولیم برنز کو اس موقع پر بھیجا۔

یورپی یونین کی طرف سے خارجہ امور کے مندوب خاویر سولانا جنازے کے لیے قاہرہ پہنچے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد