BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 November, 2004, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرفات کی ’خفیہ دولت‘ کا معمہ؟
یاسر عرفات
ماہرین کے مطابق یاسر عرفات کی ذاتی دولت اور فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز میں فرق بہت غیر واضح ہے۔
فلسطینی مزاحمت کی علامت یاسرعرفات کی وفات کے ساتھ ہی ان کی مبینہ چھپی ہوئی دولت کےبارے میں باتیں شروع ہو گئی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کی ذاتی دولت اور فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز میں فرق بہت غیر واضح ہے۔

ماہرین کے مطابق فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کی سربراہی کے دوران فلسطینیوں اور دنیا بھر سے تمام امداد یاسر عرفات کے ذاتی اکاونٹ میں جاتی تھی۔

آئی ایم ایف کے مطابق سن دوہزار میں فلسطینی اتھارٹی کے قائم ہونے کے بعد سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ امداد فلسطینی اتھارٹی کو ملتی ہے۔

فوربز میگزین کے ایک جائزے کے مطابق یاسر عرفات کی مالی حثیت تین ملین ڈالر ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی سینٹر آف ریسرچ کے ڈاکٹرگرشن باسکن کے مطابق بہت کم لوگوں کو یاسر عرفات کی ذاتی دولت اور فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز میں فرق معلوم ہے۔

ڈاکٹر باسکن کے مطابق فلسطینی وفد جو پیرس میں یاسر عرفات سے ملنے گیا تھا اس نے ان فنڈز کے بارے میں ضرور معلومات حاصل کی ہوں گی۔

یاسر عرفات کی بیوی سوہا فلسطینی وفدکے دورہ پیرس کی مخالف تھیں اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ ابو امار (یاسر عرفات) کو زندہ دفن کر دینا چاہتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا شبہ ہے کہ یاسر عرفات کی بیوی کی طرف سے فلسطینی وفد کے دورہ پیرس کی مخالفت کی اصل وجہ یاسر عرفات کے اکاؤنٹ تھے۔

اسرائیلی اور فلسطینی سینٹر کے ڈاکٹر باسکن کے مطابق یہ سوچنا کہ یاسر عرفات کی بیوی کو ان کے بینک اکاؤنٹ کی معلومات رکھتی ہیں ، قرین قیاس نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ یاسر عرفات کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم ہے۔

پی ایل او کے سابق وزیر خزانہ جاوید الغسین نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا ہے کہ اسیّ کے عشرے میں عرب دنیا دو سو ملین ڈالر سالانہ کی امداد پی ایل او کو دے رہی تھی اور یہ رقم فلسطین نیشنل فنڈ میں جمع ہوتی تھی۔

جاوید الغسین کے مطابق یاسر عرفات ہر مہینے دس ملین ڈالر اس فنڈ سے نکوالیا کرتے تھے۔

سکول آف اورینٹیل اینڈ افریقن سٹڈی کے سینئر لیکچرار مشتاق خان کے مطابق
اوسلو معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب مالی انتظام عمل میں لایا گیا۔

اس مالی انتظام کے تحت اسرائیل فلسطینوں سے حاصل کیے گئے ٹیکسوں کی تمام رقم یاسر عرفات کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کردیتا ہے۔ جس کو یاسر عرفات اور اس کے قریبی مالی مشیر چلاتے تھے۔

یہ سب کچھ امن معاہدہ کرانے والوں کے علم میں تھا اور اس وقت اس کی اجازت اس لیے دی گئی تھی تاکہ یاسر عرفات جو معاہدے پر دستخط کرنےکی وجہ سے غیر مقبول ہو گئے تھے، کی دسترس میں ایسے فنڈز ہونے چاہیے تاکہ وہ اپنی غیر مقبولیت کو ختم کرنے کے لیے ان کا استعمال کر سکیں۔

یورپی یونین اور آئی ایم ایف نے فلسطینی فنڈز میں خرد برد کے الزامات کی تحقیق کے لیے اصلاحات پسند وزیر خزانہ سلام فیاد کو مقرر کیا تھا جس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا کہ فلسطین کو عالمی اداروں کی طرف سے دی گئی امداد میں سے نو سو ملین ڈالر غائب پائے گئے ہیں۔

لیکن بعد اسی تحقیق کار نے کہا تھا کہ یہ تمام فنڈز ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق یاسر عرفات کے علاوہ اگر ان کے بینک اکاونٹ کا اگر کسی کو علم ہو سکتا ہے تو وہ ان کے مالی امور کے مشیر محمد رشید ہی ہو سکتے ہیں ۔

محمد رشید اس فلسطینی وفد میں شامل تھے جس نے فلسطینی رہنما کوپیرس میں بستر مرگ پر دیکھا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد