BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 November, 2004, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرفات کا سفر آخرت
فلسطین
فلسطینی یاسر عرفات کی وفات پر غم کا اظہار کر رہے ہیں
فرانسیسی طیارہ سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی میت لے کر مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں جمعہ کو ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

فلسطینی رہنما کی میت کو فلسطین کے پرچم میں فرانس کے فوجی ہوائی اڈے لایا گیا تھا جہاں انہیں رخصت کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب بھی کی گئی جس میں فرانسیسی گارڈ آف آنرز نے ان کی میت اٹھارکھی تھی۔ اس تقریب میں فرانسیسی حکومت کے نمائندے شریک ہوئے۔

قاہرہ میں یاسر عرفات کی نماز جنازہ جمعہ کو ادا کی جائے گی جس میں عرب اور عالمی لیڈر شرکت کریں گے۔ فلسطینی رہنماء کو ہفتے کو رملہ میں دفن کیا جائے گا۔

فلسطینی انتظامیہ نے اپنے رہنما کے انتقال پر چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

چالیس برس تک فلسطینیوں کی جد و جہد کی سربراہی کرنے والے یاسر عرفات گزشتہ رات پیرس کے قریب ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 75 برس تھی۔

اسرائیلی حکومت نے جو یاسر عرفات کی موت پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ان کی موت مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

قاہرہ کی ایک مسجد میں ان کے جنازے کی ایک تقریب منعقد ہوگی جہاں سے ان کی میت کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے رملہ منتقل کیا جائے گا۔

یاسر عرفات کا انتقال گرینچ کے وقت کے مطابق صبح دو بجکر تیس منٹ پر ہوا۔ تشخیص کے مطابق ان کے جسم کے کئی اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹروں نے یہ امکان مسترد کر دیا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا یا انہیں کینسر کا مرض لاحق تھا۔

News image

فلسطینی رہنما کے کئی اختیارات اب مختلف فلسطینی اہلکاروں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں اور محمود عباس کو فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔ سپیکر رواحی فتح کو فلسطینی انتظامیہ کا قائم مقام صدر چنا گیا ہے۔ احمد قریع کو بھی یاسر عرفات کے کچھ اختیارات منتقل کیے گئے ہیں۔

رملہ میں جہاں یاسر عرفات اپنی زندگی کے آخری دو برس ’اسرائیلی حراست‘ رہے، فلسطینی پرچم سر نگوں کر دیا گیا ہے۔

فلسطینی اپنے سروں پر سفید رنگ کا وہ چیک دار سکارف باندھے ہوئے پھر رہے ہیں جو یاسر عرفات کی پہچان بن گیا تھا۔ غزہ میں ہزاروں افراد یاسر عرفات کی وفات کی خبر سن کر گلیوں میں آ گئے اور مساجد سے فلسطینی رہنما کی تقاریر کے حصے سنائے گئے۔

24 اگست 1929 قاہرہ میں پیدائش
24 اگست 1929 قاہرہ میں پیدائش
1958: الفتح تنظیم کی بنیاد رکھی
1969: پی ایل او کے چیرمین منتخب
1974: جنرل اسمبلی سے خطاب
1982: لبنان سے بیدخلی
1990: خلیجی جنگ میں صدام کی حمایت
1991: سوہا سے شادی
1993: اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ
1994: امن کا نوبل انعام
2001: رملہ ہیڈکواٹر میں نظربندی

غم کے اظہار کے طور پر فلسطینیوں نے ہوا میں فائرنگ کی اور کئی لوگوں نے کہا کہ یاسر عرفات ان کے والد کا درجہ رکھتے تھے۔

ادھر اسرائیل نے غربِ اردن کے اکثر راستوں کو سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا ہے جبکہ دیگر مقامات پر فوج کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

یاسر عرفات کے انتقال پر کئی عالمی رہنماؤں نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا ہے کہ یاسر عرفات نے چالیس برس تک فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑی۔

News image

اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کا کہنا ہے کہ عرفات کی وفات امن کے قیام میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے اگر فلسطینی دہشت گردی چھوڑ دیں۔

امریکہ نے عرفات کے انتقال پر صرف اتنا کہا ہے کہ یہ فلسطینی تاریخ میں ایک اہم لمحہ ہے۔

ادھر رملہ میں فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا جسدِ خاکی پتھر کے باکس میں رکھا جائے تاکہ کسی روز انہیں یروشلم میں دفن کیا جا سکے کیونکہ فلسطینیوں کو امید ہے کہ یروشلم ان کی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد