عرفات کا سفر آخرت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی طیارہ سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی میت لے کر مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں جمعہ کو ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ فلسطینی رہنما کی میت کو فلسطین کے پرچم میں فرانس کے فوجی ہوائی اڈے لایا گیا تھا جہاں انہیں رخصت کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب بھی کی گئی جس میں فرانسیسی گارڈ آف آنرز نے ان کی میت اٹھارکھی تھی۔ اس تقریب میں فرانسیسی حکومت کے نمائندے شریک ہوئے۔ قاہرہ میں یاسر عرفات کی نماز جنازہ جمعہ کو ادا کی جائے گی جس میں عرب اور عالمی لیڈر شرکت کریں گے۔ فلسطینی رہنماء کو ہفتے کو رملہ میں دفن کیا جائے گا۔ فلسطینی انتظامیہ نے اپنے رہنما کے انتقال پر چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ چالیس برس تک فلسطینیوں کی جد و جہد کی سربراہی کرنے والے یاسر عرفات گزشتہ رات پیرس کے قریب ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 75 برس تھی۔ اسرائیلی حکومت نے جو یاسر عرفات کی موت پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ان کی موت مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ قاہرہ کی ایک مسجد میں ان کے جنازے کی ایک تقریب منعقد ہوگی جہاں سے ان کی میت کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے رملہ منتقل کیا جائے گا۔ یاسر عرفات کا انتقال گرینچ کے وقت کے مطابق صبح دو بجکر تیس منٹ پر ہوا۔ تشخیص کے مطابق ان کے جسم کے کئی اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹروں نے یہ امکان مسترد کر دیا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا یا انہیں کینسر کا مرض لاحق تھا۔
فلسطینی رہنما کے کئی اختیارات اب مختلف فلسطینی اہلکاروں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں اور محمود عباس کو فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔ سپیکر رواحی فتح کو فلسطینی انتظامیہ کا قائم مقام صدر چنا گیا ہے۔ احمد قریع کو بھی یاسر عرفات کے کچھ اختیارات منتقل کیے گئے ہیں۔ رملہ میں جہاں یاسر عرفات اپنی زندگی کے آخری دو برس ’اسرائیلی حراست‘ رہے، فلسطینی پرچم سر نگوں کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی اپنے سروں پر سفید رنگ کا وہ چیک دار سکارف باندھے ہوئے پھر رہے ہیں جو یاسر عرفات کی پہچان بن گیا تھا۔ غزہ میں ہزاروں افراد یاسر عرفات کی وفات کی خبر سن کر گلیوں میں آ گئے اور مساجد سے فلسطینی رہنما کی تقاریر کے حصے سنائے گئے۔
غم کے اظہار کے طور پر فلسطینیوں نے ہوا میں فائرنگ کی اور کئی لوگوں نے کہا کہ یاسر عرفات ان کے والد کا درجہ رکھتے تھے۔ ادھر اسرائیل نے غربِ اردن کے اکثر راستوں کو سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا ہے جبکہ دیگر مقامات پر فوج کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ یاسر عرفات کے انتقال پر کئی عالمی رہنماؤں نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا ہے کہ یاسر عرفات نے چالیس برس تک فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کا کہنا ہے کہ عرفات کی وفات امن کے قیام میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے اگر فلسطینی دہشت گردی چھوڑ دیں۔ امریکہ نے عرفات کے انتقال پر صرف اتنا کہا ہے کہ یہ فلسطینی تاریخ میں ایک اہم لمحہ ہے۔ ادھر رملہ میں فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا جسدِ خاکی پتھر کے باکس میں رکھا جائے تاکہ کسی روز انہیں یروشلم میں دفن کیا جا سکے کیونکہ فلسطینیوں کو امید ہے کہ یروشلم ان کی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||