BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یاسر عرفات انتقال کرگئے
یاسر عرفات
یاسر عرفات
دنیا بھر میں فلسطینی قومیت کی علامت یاسر عرفات گزشتہ رات پیرس کے ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر پچھتر سال تھی۔

فلسطینی اہلکاروں کے مطابق ان کی میت جمعہ کو جنازے کے لیے قاہرہ لے جائی جائے جس کے بعد تدفین کے لیے ان کی میت کو رملہ لے جایا جائے گا۔

فلسطینی سیاست پر چالیس سال تک چھائے رہنے والے یاسر عرفات کو انتیس اکتوبر کو رملہ میں ان کے ہیڈکوارٹر سے علالت کے باعث فرانس منتقل کیا گیا تھا۔ تین نومبر کو وہ کوما میں چلے گئے جبکہ منگل کو ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی۔ یاسر عرفات کا انتقال گرینچ کے وقت کے مطابق صبح دو بجکر تیس منٹ پر ہوا۔

ان کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی غرب اردن میں فلسطینی پرچم سرنگوں کردیئے گئے۔رملہ میں جہاں اسرائیل نے یاسر عرفات کو لگ بھگ اڑھائی برس تک بزورِ طاقت باہر نکلنے سے روک کر رکھا۔ رملہ میں کچھ گارڈز سبز لباس پہنے کھڑے دکھائی دیئے۔ چند افراد نے اپنے سروں پر کالے چیک والا وہ سفید کپڑا باندھ رکھا تھا جو یاسر عرفات کی شناخت بن گیا تھا۔

صائب ارکات نے جنہوں نے یاسر عرفات کی وفات کی خبر کا اعلان کیا کہا کہ ’آج ہماری تاریخ کا تاریک دن ہے‘۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یاسر عرفات کا جانشین کون ہوگا۔ تاہم فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی پرامن طور پر ہو۔ الیکشن کے انعقاد تک فلسطینی پارلیمنٹ کے سپیکر روحی فتوح عبوری صدر رہیں گے۔

اس سے پہلے آنے والی خبروں میں ایک فلسطینی اہلکار نے کہا تھا کہ فلسطینی رہنما کے انتقال کی خبر اب گھنٹوں کی بات محسوس ہوتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو ان کا جنازہ قاہرہ میں جمعہ کو ہو گا۔

قاہرہ سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیادت نے عرفات کے جنازے کے لیے مصر کی پیش کش قبول کر لی ہے اور عرفات کے جنازے کے انتظامات کو آخری شکل دینے کے لیے مصر جانے والے عرفات کے ایک قریبی ساتھی نبیل ابو رضا نے کہا ہے کہ عرفات کا جنازہ قاہرہ میں جمعہ کو ہوگا۔

جنازے کے لیے مذہبی اور فوجی دونوں طرح کی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنازے میں شرکت کے لیے آنے والے عالمی رہنماؤں کے انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنازے میں کون کون شریک ہو گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد