پاکستان، بھارت میں رنج و غم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے تین روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز، یاسر عرفات کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے قاہرہ روانہ ہونے والے ہیں۔ فلسیطینی وزیراعظم احمد قریع کے نام بھیجے گئے علیحدہ علیحدہ تعزیتی پیغامات میں انہوں نے کہا ہے کہ یاسر عرفات نے ساری زندگی جدوجہد میں گزاری اور وہ فلسطین کی آزادی کی علامت تھے۔ پاکستان کے سربراہان نے فلسطینی وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان، فلسطین کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان کے بیشتر مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے بھی یاسر عرفات کے موت پر سخت افسوس ظاہر کرتے ہوئے ان کے موت کو فلسطین کی جدوجہد آزادی کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ ادھر جنوبی ایشیا کے ممالک میں بھی یاسر عرفات کی موت کا سوگ منایا جا رہا ہے۔ بھارتی رہنماؤں نے یاسر عرفات کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ لوگ انہیں ان کی قربانیوں اور حوصلہ کی وجہ سے پسند کرتے تھے۔ بھارت کے صدر عبدالکلام نے کہا کہ فلسطینی عوام ایک ایسے عاقبت اندیش رہنما سے محروم ہوگئے ہیں جن کی زندگی کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ اپنے لوگوں کے لیے الگ وطن حاصل کر سکیں۔ توقع ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ یاسر عرفات کے جنازے میں بھی شریک ہوں گے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ یاسر عرفات کی غیر موجودگی واضح طور پر محسوس کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عرفات ایک عظیم شخصیت تھے جن کی دلیری اور قیادت کا زمانہ معترف تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||