یاسر عرفات: انتقال پر عالمی ردِ عمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے انتقال پر دنیا بھر سے صدور، وزرائے اعظم اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ یاسر عرفات کی موت فلسطینی تاریخ کے لیے ایک فیصلے کن مرحلہ ثابت ہو گی۔ فرانس کے صدر ژاک شیراک نے یاسر عرفات کی ہمت اور ان کی فلسطینی مملکت کے لیے جدو جہد کو سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں فلسطینی رہنما کے انتقال سے گہرا صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسر عرفات فلسطینی عوام کی قومی توقعات کا مظہر تھے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا ہے کہ فلسطینی رہنما کا انیس سو ترانوے میں اسرائیل کے ساتھ آسلو امن معاہدے پر دستخط کرنا ان کی سیاسی زندگی کا سب سے اہم موقع تھا۔ تاہم آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں تاریخ یاسر عرفات کا اس لیے سخت محاسبہ کرے گی کہ انہوں نے سن دو ہزار میں اسرائیل کی طرف سے امن کی پیشکش کو ٹھکرایا تھا۔ اسرائیل کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ یاسر عرفات، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یاسر عرفات یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جو دہشت گردی شروع ہوئی وہ ساری دنیا میں پھیل گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||