BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اہم‘ ملاقات میں ’معمولی‘ پیش رفت

News image
ایریل شیرون اور محمود عباس میں مزاکرات
گزشتہ چار ماہ کے دوران فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان پہلی یروشلم بات چیت، انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں ہوئی۔

یروشلم کی گلیاں بند کردی گئیں تاکہ سڑکیں فلسطینی رہنما محمود عباس کے لیے صاف کی جاسکیں۔ ان کا کارروان ایک گلی سے مڑا اور بڑے جلوس کی شکل میں اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ میں داخل ہوا۔

جس طرح حفاظتی انتظامات خاصے سخت تھے اس طرح دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے پیش رفت کے بارے میں توقعات بھی زیادہ تھیں۔

دو روز قبل امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے یہاں موجودگی کے دوران زور دیا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل مل جل کر غزا سے انخلاء کے بارے میں اسرائیلی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے کام کریں۔

ان کی خواہش تھی کہ دونوں فریق منصوبے کی ٹھوس تفصیلات پر اتفاق کرلیں۔

مس رائس کی واپسی سے قبل ہی فلسطین اور اسرائیلی قیادت میں دو گھنٹے تک بالمشافہ ملاقات ہوئی۔

بات چیت میں فلسطینی قیادت نے غزہ کے اندر اور باہر آزادانہ طور پر آنے جانے کی اجازت دینے، قیدیوں کو رہا کرنے، اہم فلسطینی شہروں کی منتقلی اور بندرگاہیں اور ہوائی اڈے کھولنے کے مطالبات پیش کیے۔

اسرائیل نے ان کے مطالبات پر کہا کہ سب ٹھیک ہے لیکن اس کے لیے اسرائیل کے خلاف تمام فلسطینی پرتشدد کارروایاں بند ہونی چاہیئیں۔

اسرائیل کے ایسے موقف کو کئی تجزیہ کار تو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون بضد ہیں کہ یہ مسئلہ شروع بھی فلسطینی شدت پسندی سے ہوا تھا اور ختم بھی اس کے خاتمے پر ہوگا۔

ملاقات کے بعد اسرائیل نے تو بات چیت کو مثبت قرار دیا لیکن فلسطینی خاصے مایوس تھے۔

فلسطینی وزیراعظم محمود عباس تو طے شدہ پریس کانفرنس میں بھی نہیں آئے لیکن اس موقع پر سابق وزیراعظم احمد قریع نے مایوسی میں کہا تھا کہ ’ہماری توقعات کے مطابق ایک بھی معاملے میں پیش رفت نہیں ہوئی اور مجموعی طور پر جو کچھ پیش گیا ہے وہ ان کے لیے باعث اطمینان نہیں‘۔

ان کے رد عمل کے برعکس اسرائیلی وزیراعظم یروشلم میں ہونے والے عشائیہ میں خاصے مطمئن دکھائی دیے۔

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے کہا کہ ’ہم غزا سے انخلا کے لیے رابطہ کریں گے اور یہی دونوں کے لیے بہتر ہے لیکن ان کے مطابق یہ انخلا گولی کے تحت نہیں ہوگا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم انخلا کو نہیں روکیں گے بلکہ شدت پسندی کو ختم کریں گے‘۔

شدت پسندی کی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ تو فی الوقت شاید ہی ممکن ہو۔ کیونکہ گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی حملے ہوئے ہیں جس سے دونوں جانب ہلاکتیں بھی ہوئیں ہیں۔

گزشتہ پیر کو ایک یہودی آبادکار کو ایک مسلح فلسطینی نے گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ جبکہ فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں کی ملاقات سے تھوڑی دیر قبل ہی اسرائیلی فورسز نے شمالی غزا کی پٹی میں شدت پسندوں کی موجودگی کی غیرمصدقہ اطلاع پر ایک خالی عمارت پر حملہ کیا تھا۔

اسرائیلی عوام میں ایریل شیرون کے منصوبے کی حمایت کم ہو رہی ہے۔ حتیٰ کہ بائیں بازو والوں کو بھی خدشہ ہے کہ اس سے اسرائیل کی سیکیورٹی کے انتظامات شاید بہتر نہیں ہوپائیں گے۔

ایسی صورتحال میں ایریل شیرون کو اپنے عوام کی زیادہ سے زیادہ حمایت درکار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی زبان بول رہے ہیں جس سے انہیں پتہ ہے کہ وہ حمایت حاصل کر سکیں گے۔

فلسطین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں امریکہ کا اتحادی اسرائیل پر دباؤ چاہے کتنا ہی ہو لیکن ایریل شیرون نے موقف اپنی مقامی سیاسی ضروریات کے مطابق ہی اختیار کرکے فائدہ اٹھایا۔

اسرائیل اور فلسطین کے وزرائے اعظم کی اس اہم ملاقات کے نتائج معمولی پیش رفت کی صورت میں ہی برآمد ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد