فلسطینی قیدیوں کی رہائی روک دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایریئل شیرون نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی روکتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیادت شدت پسندوں کے خلاف مزید اقدامات کرے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا ’کہ اب اور فلسطینی قیدیوں کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جبتک فلسطینی رہنما محمود عباس شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی نہیں کرتے۔‘ ایریئل شیرون کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے خلاف خصوصاً غزہ کی پٹی میں ہونے والے حملے ختم ہوں۔ اسرائیل نو سو قیدیوں کو رہا کرنے پر راضی ہوگیا تھا لیکن گزشتہ فروری کے معاہدے کے بعد سے اب تک صرف پانچ سو قیدی اس نے رہا کیے ہیں۔ تاہم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حال ہی میں تعلقات میں کشیدگی آئی ہے اور اسرائیل نے شکایت کی ہے کہ اس کے شہروں میں مسلسل راکٹوں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ ایک فلسطینی وزیر سفیان ابو زید نے کہا ہے کہ اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی روک کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیل اور فلسطینی حکام نے اس معاملے پر بحث کرنے کے لیے اتوار کو ملاقات کی لیکن کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ ایک اسرائیلی ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیادت اور اسرائیلی رہنما کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ محمود عباس شدت پسندوں کے خلاف مزید کارروائی کریں، خاص طور پر ان کے خلاف جو کچھ عرصے سے بالخصوص غزہ کی پٹی میں اسرائیلی اہداف کو راکٹوں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کابنیہ میں کہا ’اسرائیلی شہریوں کی زندگی کی قیمت پر کوئی فلسطینی قیدی رہا نہیں کیا جائے گا۔‘ فلسطین کے اعلیٰ مذاکراتِ کار صائب ارکات کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اعلان کا مطلب یہ ہے کہ شرم الشیخ میں اعتماد کی بحالی کے جن اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا اسرائیل نے انہیں معطل کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||