حماس حکومت میں شامل نہیں ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینوں کی شدت ہسند جمیعت حماس نے وزیر اعظم احمد قریع کی طرف سے قومی اتحاد کی حکومت میں شمولیت کی دعوت مسترد کر دی ہے۔ حماس تنظیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ تنظیم آئندہ جنوری میں ہونے والے انتخابات کا انتظار کرے گی جس میں اس کے اراکین حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کی تیاریوں کے لیے فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر حماس احمد قریع کی دعوت قبول کر لیتی تو فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مزید دشواریاں پیدا ہو سکتی تھیں۔ حماس نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ اسرائیل کو حتمی طور پر ختم کرنا چاہتی ہے اور اسرائیل حماس کو اپنا بدترین دہشت گرد دشمن گردانتا ہے۔ تاہم فلسطینی حماس کو اسرائیل قبضے کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر جانتے ہیں اور فلسطینیوں میں حماس کی کافی حمایت ہے۔ حماس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اتنی دیر کے بعد اب قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونا مفید نہیں ہوگا۔ احمد قریع کی دعوت کا مقصد تھا کہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء سے قبل حماس کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔ تنظیم نے تجویز دی ہے کہ اسرائیلی انخلاء کے دوران فلسطینی اقدامات کے لیے ایک خصوصی رابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اگلے ماہ سے اسرائیل غزہ سے آٹھ ہزار مکینوں اور اپنی فوج کو باہر نکال رہا ہے اور یہ اقدام اس کے پہلے سے اعلان کردہ منصوبے کا حصہ ہے۔ احمد قریع نے حماس کو قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے کی دعوت کچھ روز پہلے دی تھی لیکن اس کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی اور نہ یہ بتایا گیا تھا کہ حکومت میں حماس کا کردار کس نوعیت کا ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||