حماس: انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے اپنے ’حمایتیوں ‘ سے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کے لیے جنوری میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ حماس کے سینیئر رہنما اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ نو جنوری کے انتخابات میں حماس کا کوئی امیدوار نہیں ہوگا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل عام فلسطینیوں کے لیے نہیں ہے۔ حماس نے انتخابات کو اس لئے مسترد کردیا ہے کہ وہ اوسلو امن معاہدے کے تحت فلسطینی انتظامیہ کے قیام کو قبول نہیں کرتی۔ غزہ میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا: ’حماس اپنے کارکنوں، اراکین اور حمایتیوں سے فلسطینی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتی ہے۔ ‘ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے فلسطینی انتظامیہ کے رہنما کے انتخابات کے ساتھ ساتھ ارکان اسمبلی اور میونسپل الیکشن کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کی نہ مانی گئی اور اب یہ انتخابات الگ الگ ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا: ’حماس کے تمام اراکین انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ ‘ اسماعیل ھنیہ کا یہ بیان حماس کی جانب سے انتخابات میں شرکت کے موضوع پر پہلا باقاعدہ اعلان ہے۔ یہ بیان بدھ کی شب بارے بجے تک انتخابات میں امیدواروں کی نامزدگی کے آخری وقت سے پہلے آیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کے لیے جن لوگوں کی نامزدگی پہلے کی جاچکی ہے ان میں محمود عباس اور انسانی حقوق کے لیے لڑنے والے مصطفیٰ برغوتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ محمود عباس کا انتخاب یقینی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||