غزہ میں جنازوں پر انتقام کی قسمیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہزاروں فلسطینیوں نےغزہ کی سڑکوں پر شدت پسند تنظیم حماس کے ان چودہ ارکان کےجنازے کے جلوس میں شرکت کی ہے جنہیں اسرائیل نے ایک فضائی کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تمام کے تمام مرنے والے حماس کے فوجی دھڑے سے تعلق رکھتے تھے اور جس وقت ان کے خلاف کارروائی کی گئی اس وقت تربیتی مشق کے لیے جمع ہوئے تھے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے فلسطینی انتفادہ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کی طرف سے حماس کے خلاف یہ سب سے سخت کارروائی تھی۔ فضائی کارروائی کے محض چند گھنٹوں بعد حماس کے شدت پسندوں نے غزہ سے ملحق اسرائیلی علاقے سدیروٹ میں مارٹرز اور راکٹوں سے حملہ کیا۔ دریں اثنا حماس لیڈروں کے جنازے میں شامل لوگوں نے چودہ افراد کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی ہے۔ منگل کو حماس رہنماؤں کی تدفین کے موقع پر غزہ میں سکول بند رہے اور لوگوں نے احتراماً دکانیں بند رکھیں۔ مرنے والوں کے جسموں پر جھنڈوں والے کفن تھے جن پر قرآنی آیات درج تھیں۔ اس سے پہلے شدت پسند گروپ نےگزشتہ ہفتے بیرشیبا نامی شہر میں خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان حملوں میں سولہ افراد مارے گئے تھے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ مرنے والوں کا انتقام لے گا۔ منگل کی صبح اسرائیلی میزائلوں نے اس سپورٹس گراؤنڈ کو نشانہ بنایا جس کا نام حماس کے روحانی رہنما شیخ یاسین کے مناسبت سے رکھا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||