ترکی آرمینیائیوں کے قتل عام کو مانے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی کلیساؤں کی ایک کانفرنس میں ترکی سے کہا گیا ہے کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے آخری دور میں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کرے۔ آرمینیا ترکی کی یورپی یونیں میں داخلے کے خلاف ہے اور اس نے اعتراض کیا ہے کہ ترکوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران انیس سو پندرہ سے لے کر انیس سو سترہ تک کے عرصے میں دس سے پندرہ لاکھ آرمینیائی باشندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ترکی کی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے اگر تاریخ دان ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیائی باشندوں کو ایک متعصب جنگ کا سامنا تھا اور اسی جنگ میں بہت سےترک بھی ہلاک ہوئے۔ یورپین کلیساؤں کی کانفرنس میں اکثریت آرتھوڈاکس اور پرٹسٹنٹ چرچوں کی ہے۔ کانفرنس میں ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل عام کی ذمہ داری قبول کرئے۔ نئے منتخب ہونے والے پوپ بینڈیکٹ سیکسٹینتھ ترکی کی یورپین یونین میں شمولیت کے مخالف ہیں۔ حال میں ترک وزیر اعظم طیب اردوگان نے آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے بارے میں کہا تھا کہ ان کا ملک اپنے تاریخی دستاویزات کو تاریخ دانوں کے لیے کھولنے کے لیے تیار ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ترکی نے آرمینیائی باشندوں کا قتل عام نہیں کیا تھا۔ یورپین یونین کے کئی سیاستدان اس کے بات کے حق میں ہیں کہ ترکی کی یورپین یونین کی رکنیت کی درخواست پر غور کے وقت آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے بارے میں بھی بحث ہونی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||