’آرمینیا میں قتل عام نہیں کیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے تاریخ دانوں سے کہا کہ وہ تاریخ کا غیر جانبدارنہ مطالعہ کریں جس سے یہ ثابت ہو گا کہ ترکوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کا قتل عام نہیں کیا تھا۔ آرمینیا ترکی کی یورپی یونیں میں داخلے کے خلاف ہے اور اس نے اعتراض کیا ہے کہ ترکوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی لوگوں کا قتل عام کیا جس میں دس لاکھ لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ طیب رجب اردوگان نے کہا کہ ان کا ملک اپنے تاریخی دستاویزات کو تاریخ دانوں کے لیے کھولنے کے لیے تیار ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ترکی نے آرمینیائی باشندوں کا قتل عام نہیں کیا تھا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ آرمینیائی باشندوں کو ایک متعصب جنگ کا سامنا تھا اور اسی جنگ میں بہت سےترک بھی ہلاک ہوئے۔ ترکی جو یورپین یونیں کی رکنیت حاصل کرنے کا خواہاں ہے، پر دباؤ ہے کہ وہ پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے الزامات کا جواب دے۔ یورپین یونین کے کئی سیاستدان اس کے بات کے حق میں ہیں کہ ترکی کی یورپین یونین کی رکنیت کی درخواست پر غور کے وقت آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کے بارے میں بھی بحث ہونی چاہیے۔ دنیا کی کئی پارلیمینٹوں نے جن میں کینیڈا، فرانس اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، ایسی قراردایں منظور کر رکھی ہیں جس کے مطابق آرمینیائی باشندوں کا قتل عام ایک تاریخی حقیقت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||