یورپی یونین کی توسیع کا مطلب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج یورپی یونین کے پاس جتنا رقبہ ہے اتنا ہی رقبہ اب سے دو ہزار سال قبل سلطنتِ روما بھی متحد کر چکی ہے۔ لیکن رومنوں نے یہ کام تلوار سے کیا تھا اور آج یہی کام دلیل کی مدد سے ہوا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ فاتح و مفتوح کی درجہ بندی کے بغیر پچیس ممالک کے کوئی پچاس کروڑ باشندے ایک جھنڈا، ایک کرنسی، ایک سرحد اور ایک ہی طرح کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں اپنا کر دنیا کی پہلی براعظمی کنفیڈریشن بن گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس عظیم اتحاد کے پیچھے یورپی رہنماؤں کا تدبر اور بالغ نظری ہو لیکن اس سے بھی کہیں بڑا سبب یورپ کی تاریخ سے سیکھا جانے والا سبق ہے۔ جو پچیس اقوام آج ایک جھنڈے تلے خوش دکھائی دے رہی ہیں انہوں نے ماضی میں ایک دوسرے کو بہت غم بھی دیئے ہیں۔ اسی یورپ میں ایک ہزار برس تک مذہبی اختلافات کے نام پر ہونے والی جنگوں اور خانہ جنگیوں نے لاکھوں لوگوں کو نگل لیا۔ اب سے دو سو برس پہلے جو یورپ تھا وہ بنیادی طور پر فرانس، پرشیا، آسٹریا کے ہیپس برگ، روس کے رومانوف اور برطانیہ کے ٹیوڈر اور پھر ونڈسر خاندان کی ملکیت تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے دوسرے نصف کی پرشیا اور فرانس کی جنگوں نے اور پھر نوآبادیات اور منڈیوں پر قبضے اور لوٹ مار کی دوڑ کے نتیجے میں ہونے والی پہلی عالمی جنگ نے ان خانوادوں کا سارا کس بل نکال دیا۔ مگر فاتح اور مفتوح کی مسلسل ذہنیت نے پہلی عالمی جنگ کے بعد بھی یورپ کو چین نہ لینے دیا اور اسی ذہنیت نے صرف بیس برس میں یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے جہنم میں دھکیل دیا۔ دونوں جنگوں میں تین کروڑ سے زائد لوگ گنوانے کے بعد ہی یہ بات یورپی عقل نے قبول کرنا شروع کی کہ سلطنتِ روما کے زمانے سے چلی آ رہی جنگجویانہ ذہنیت کی جگہ یہ تجربہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یونانی افکار اور انقلابِ فرانس کی بنیاد بننے والی حریتِ فکر کو یکجا کر کے ایک نئے یورپ کی بنیاد ڈالی جائے۔ چنانچہ انیس سو پچاس کے عشرے میں تشکیل پانے والی یورپی کمیونٹی آج پچیس ممالک کی یورپی یونین بن چکی ہے۔ یکم مئی کو جو دس ممالک اس کلب میں شامل ہوئے ہیں ان میں سے دو یعنی قبرص اور مالٹا کو چھوڑ کر باقی آٹھ ممالک یا تو سوویت یونین کا حصہ تھے یا سرد جنگ میں اس کے حلقہ اثر میں تھے۔ ان کی شمولیت سے نہ صرف یورپ میں پرانی سرد جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو گیا بلکہ اس کا بھی کسی پروٹسٹنٹ کو خوف نہیں ہے کہ اب یونین میں کیتھولک اور آرتھوڈ کس عیسائی ممالک کی اکثریت ہو گئی ہے۔ لیکن جس روشن خیال نظریے کی بنیاد پر یہ سب کچھ ممکن ہو سکا ہے اس نظریے کی اصل آزمائش اگلے چند ماہ میں ہونے والی ہے جب یورپی یونین میں شمولیت کے خواہاں یورپی مسلمان ملک ترکی سے باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ ترکی کا معاملہ اب تک ایک یورپی سفارتکار کے بقول اس لئے اٹکا ہوا ہے کیونکہ ترکی بہت بڑا، بہت غریب اور بہت مسلمان ہے۔ فرانس اور یونان تو تہذیبی فرق کی بنیاد پر برملا ترکی کی یونین میں شمولیت کے مخالف ہیں جبکہ باقی ارکان زبان سے یہ بات کہنے سے گریزاں ہیں۔ ترکی کا عثمانی سلطنت کا ماضی بھی ایک بڑی نفسیاتی رکاوٹ ہے کیونکہ پورا بلقان اور آدھا یورپ عثمانی سلطنت کا ایک زمانے تک مقبوضہ رہ چکا ہے۔ لیکن جب فرانس اور جرمنی جیسے تاریخی دشمن شیروشکر ہو سکتے ہیں تو پھر ترکی سے معاملات طے کرنے میں کیا قباحت ہے؟ ترکی کو اگر اگلے چند برس میں یورپی یونین کی رکنیت مل جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یورپ ماضی کی قید سے رہا ہو کر مشرق و مغرب کے درمیان واقع اس تہذیبی پل کو قائم رکھنا چاہتا ہے جو اس وقت انتہا پسندی کے تھپیڑوں سے جھول رہا ہے۔ اگر ترکی کو یونین کی رکنیت دینے سے انکار ہو جاتا ہے تو اس سے باقی دنیا بالخصوص مسلمان دنیا کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ یورپی اقدار کو اپنانے والا کوئی بھی یورپی مگر مسلمان ملک اپنی تمام تر اعتدال پسند پالیسیوں کے باوجود عیسائی یورپ کے قلعے میں باوقار طور سے داخل نہیں ہو سکتا۔ اور یہ روشن خیالی کی دنیا نہیں بلکہ گھوم پھر کر تہذیبی اور نسلی فرق والی وہی پرانی دنیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||