جب کمہار پر بس نہ چلے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف مزاجاً جتنے لبرل ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ جنرل کی بجائے اپنے اسی مزاج کے ساتھ پشاور میں رہنے والے کوئی عام سے شہری ہوتے تو ایم ایم اے حکومت کی صوبائی پولیس انہیں اب تک کئی مرتبہ گرفتار کرکے شخصی ضمانتوں پر چھوڑ چکی ہوتی۔ کراچی کے میئر نعمت اللہ خان ایم ایم اے میں شامل جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے رئیسِ شہر بنے۔لیکن کیا کیا جاۓ کہ ساٹھ فی صد کراچی آٹھ فوجی کنٹونمنٹس بورڈز کے ضوابط کے تحت آتا ہے اور بلدیہ کراچی کی دسترس سے باہر ہے۔چنانچہ جسے بھی میوزیکل کنسرٹ کرنا ہوتا ہے وہ فوجی کنٹونمنٹس کی حدود میں واقع کسی میدان یا ہوٹل کو زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔جبکہ حکومتِ سندھ میں چونکہ ایم ایم اے کی نمائندگی نہیں ہے اس لئے صوبہِ سرحد کے برعکس نہ تو سندھ میں سینما پوسٹرز پھٹے ہیں نہ ہی سینماؤں پر پتھراؤ ہوا ہے۔وڈیو اور آڈیو کیسٹس بھی نہیں جلائی گئی ہیں۔کیبل ٹی وی آپریٹرز کے دفتر بھی سلامت ہیں اور شادی بیاہ کی تقاریب میں پولیس نے گھس کر کسی گلوکار یا رقاص کو گرفتار کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ بلوچستان میں چونکہ ایم ایم اے مخلوط حکومت کا حصہ ہے اس لئے وہاں بھی ایسا کچھ نہیں ہو پارہا ہے جو کہ صوبہ سرحد میں ممکن ہے۔ صوبہ سرحد میں غالباً یہ ہوا ہے کہ جب سے وہاں ایم ایم اے کی حکومت اقتدار میں آئی ہے ناچ گانے کا فن وبائی شکل اختیار کر گیا ہے۔ورنہ کیسے ممکن ہے کہ پشاور کے ڈبگری بازار میں دو سو برس سے موجود سازندوں کا بیٹھے بٹھائے حقہ پانی بند ہو جائے۔درجن بھر بالا خانوں میں مقیم یہ سازندے جو شادی بیاہ کی تقاریب میں مہمانوں کا دل بہلا کر کھا کماتے تھےغالباً ایم ایم اے کی حکومت بنتے ہی اتنے دیدہ دلیر ہو گئے کہ انہوں نے تمام اخلاقی اور سماجی حدود توڑ ڈالیں۔اس لئے پولیس کے ذریعے نہ صرف انہیں ماراپیٹا گیا بلکہ یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ اپنے بالاخانوں کے دروازے اور کھڑکیاں مستقل بند رکھیں تاکہ باہر سے کسی کی نظر آلاتِ غنا اور سازندوں پر نہ پڑ جائے۔اس حکم کی تعمیل میں گزشتہ پندرہ ماہ سے ان سازندوں کے دروازے کھڑکیاں بند ہیں۔لوگ ڈر کے مارے انہیں تقریبات میں نہیں بلاتے۔معاشی تنگی سے مجبور ہو کر کئی فنکار اور سازندے ڈبگری بازار چھوڑ چکے ہیں اور باقی کسی آس میں نہیں چھوڑ پا رہے۔لیکن ایم ایم اے والے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے۔انہیں بھی معلوم ہے کہ اگر کل کلاں صوبائی حکومت ختم ہوتی ہے تو کھڑکیاں دوبارہ کھل سکتی ہیں۔اس لیے مسئلے کے مستقل حل کے لئے اب یہ غیر سرکاری مہم چلائی جا رہی ہے کہ یہ سازندے مستقلاً جگہ ہی چھوڑ دیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صوبہ سرحد میں مذہبی جماعتیں پہلی دفعہ برسرِ اقتدار آئی ہوں۔انیس سو بہتر میں مولانا مفتی محمود کی قیادت میں یہاں جمیعت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط حکومت نے بھی شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔پشاور کے ڈبگری بازار میں سازندے اور رقاص اس وقت بھی بیٹھا کرتے تھے۔لیکن مفتی محمود حکومت کو ان سے کوئی شکایت نہیں تھی اور وہ دیگر سنجیدہ مسائل میں الجھی ہوئی تھی۔ ایم ایم اے کی موجودہ صوبائی حکومت نہ تو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن رکوا سکتی ہے اور نہ ہی ایف بی آئی کے کارندوں کی آمدورفت روک سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||