BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 April, 2004, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجرہ تیار ہے

فلسطینی مہاجرین
آپ کو یاد ہوگا کہ حماس کے رہنما عبدالعزیز رنتیسی کے قتل سے ٹھیک سولہ برس پہلے سولہ اپریل انیس سو اٹھاسی کو اسرائیلی کمانڈوز نے تیونس کے ایک گھر میں گھس کر یاسرعرفات کے نائب خلیل الوزیر عرف ابو جہاد کو قتل کیا تھا۔

اس زمانے میں تنظیم آزادئ فلسطین ، اسکے سربراہ یاسر عرفات اور انکے رفقاء اسرائیل کے نزدیک دہشت گردی کے اسی پائیدان پر کھڑے تھے جس پر اسوقت حماس کھڑی ہے۔

لیکن جب اوسلو امن سمجھوتے کے دروازے سے فلسطینیوں کو آزادی کے سراب میں دھکیل دیا گیا اور یاسر عرفات کو ہیرو سے زیرو کے درجے پر پہنچا دیا گیا تو پھر مایوسی کی اس راکھ سے حماس کی شدت پسندی نے سر اٹھایا۔

حماس نے خودکش حملے کل شروع نہیں کئے بلکہ یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔اس کے باوجود اسرائیل نے انیس سو اٹھانوے میں دو اسرائیلی ایجنٹوں کے عوض حماس کے بانی شیخ احمد یاسین کو جیل سے رہا کردیا۔اسکے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کے فوجی بازو عزالدین القاسم بریگیڈ کے عسکری رہنماؤں اور چھاپہ ماروں کو تو قتل کیا جاتا رہا لیکن حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا۔

غرب اردن
اسرائیل فصیل تعمیر کر کے غرب اردن میں اپنے علاقے محفوظ بنا رہا ہے
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ماہ یہ فیصلہ کیا کہ نہ صرف حماس کی سیاسی قیادت بلکہ یاسر عرفات اور لبنانی حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ سمیت ہر اسرائیل مخالف اب ہٹ لسٹ پر ہے۔

اسرائیل کو بخوبی معلوم ہے کہ کسی بھی رہنما کے قتل کی صورت میں زیادہ سے زیادہ کتنا سخت ردِعمل ہو سکتا ہے۔عرب دارالحکومتوں میں پھر چند احتجاجی مظاہرے ہو جائیں گے۔

عرب رہنما اپنے معمول کے احتجاجی بیانات میں بین الاقوامی قوانین کی پامالی کی دہائی دے دیں گے۔ہوسکتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا جاۓ۔لیکن امریکہ بھی تو سلامتی کونسل میں موجود ہے۔

یہ وہ ٹھیک ٹھیک اندازے ہیں جن کے نتیجے میں اسرائیل اطمینان سے مخالف قیادت کے جسمانی صفائے کی پالیسی کو جاری رکھ سکتا ہے۔اسرائیل کو اس پالیسی کی کامیابی کا یوں بھی یقین ہے کیونکہ فلسطینیوں کے درمیان اسکا انٹیلی جینس نیٹ ورک نہایت موثر اور مستحکم ہے۔

ان حالات میں اگر یاسر عرفات اور حسن نصراللہ جیسے رہنما سلامت ہیں تو اسکا کریڈٹ ان کے سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کو نہیں بلکہ اسرائیل کی مرضی کو جاتا ہے۔

پی ایل او کی قیادت کو مفلوج و محصور بنانے اور حماس کی قیادت کے جسمانی وجود کو مٹانے کی پالیسی کے بعد اسرائیلی منصوبوں کی راہ میں اگر کوئی واحد بڑی رکاوٹ باقی ہے تو وہ لاکھوں ایسے عام فلسطینی ہیں جن کے پاس اب کھونے کے لئے سوائے اپنے وجود کے کچھ باقی نہیں رہا۔

ان فلسطینوں کو لگام دینے کے لئے ایک جانب تو غزہ کی پٹی سے جان چھڑائی جا رہی ہے تو دوسری جانب مغربی کنارے پر فصیل تعمیر ہورہی ہے۔

جس دن اسرائیل ان مفلوک الحال فلسطینوں کو پوری طرح پنجرے میں بند کرنے میں کامیاب ہوگیا مسئلہ فلسطین حل ہو جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد