ریاست اور شتر مرغ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف حکومت کو پاکستان کی سابق حکومتوں سے جو عنصر ممتاز کرتا ہے وہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنی بیشتر پالیسیوں میں جزباتی نہیں ہے اور وقت اور حالات کے مطابق فیصلہ سازی میں لچک کا عنصر ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔اصولی پا لیسی اور فیصلہ سازی کے عمل کو آپس میں گڈ مڈ کرنے کے بجاۓ کوشش کی جاتی ہے کہ تمام ممکنہ راستے کھلے رہیں۔ مثلاً اصولی پالیسی یہ ہے کہ کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہئے۔لیکن عملی پالیسی یہ ہے کہ کارگل کا تجربہ آئندہ نہیں دہرایا جاۓ گا۔اور معاملات پہلے کشمیر پھر کچھ اور کے بجاۓ اب کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل ہوں گے۔ اصولی پالیسی یہ ہے کہ جن سیاستدانوں نے ملک لوٹا ہے ان سے پائی پائی وصول کی جاۓ گی اور انتقامی سیاست کو شفاف سیاست میں بدلا جاۓ گا۔لیکن عملی پالیسی یہ ہے کہ یا تو حکمران جماعت کا اتحادی بن کر احتساب سے جان چھڑا لو اور وزارتیں اور مراعات بھی لے لو یا پھر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی طرح ملک سے باہر رہو یا پھر جاوید ہاشمی اور آصف زرداری بن جاؤ۔ اصولی پالیسی یہ ہے کہ ملک سے مزہبی دہشتگردی کو اکھاڑ پھینکا جاۓ گا اور القاعدہ کے کسی رکن یا پشت پناہ کو نہیں بخشا جاۓ گا۔مگر عملی پالیسی یہ ہے کہ اگر طاقت کا استعمال ناکام ہو جاۓ تو ایک سو سے زائد زائد فوجیوں اور قبائلیوں کی ہلاکت اور متعدد مکانات اور دوکانوں کی مسماری کے بعد القاعدہ کے ارکان کو پناہ دینے کے الزام میں مطلوب اشتہاری ملزموں کو گلے لگا کر معاف اچھی بات یہ ہے کہ مشرف حکومت کی لچکدار پالیسیاں فائدہ مند بھی ثابت ہو رہی ہیں۔مثلاً ہندوستان کے ساتھ امن کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں روشن ہیں۔ملکی سیاست بھی بظاہر حکومت کے قابو میں ہے۔پاکستان کو بہتر کارکردگی کے عوض امریکہ کی جانب سے غیرناٹو حلیف کا درجہ بھی مل گیا ہے۔وزیرستان کے باغی قبائیلی حکومتی اور فوجی اہل کاروں کو جاۓ نمازیں، مسواکیں اور لنگیاں بھی پیش کر رہے ہیں۔
وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں کہ اگر آپ حریف کو زیر نہ کر سکیں تو پھر یا تو حریف کو ساتھ ملا لیں یا خود اس کے ساتھ مل جائیں۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس اصول کی بنیاد پر جو پالیسیاں بنتی ہیں وہ اگر مستحکم سیاسی اداروں کی عدم موجودگی میں صرف ایک شخص کی مرضی و منشا کی عکاس ہوں تو کتنے دن اور کتنی دور تک چل سکتی ہیں۔یہ وہ سوال ہے جس کا سامنا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ستاون برس سے ہے۔اگر ایوب خان نہ رہے تو کیا ہوگا۔اگر زوالفقار علی بھٹو نہ ہوۓ تو کیا بنے گا۔اگر ضیاالحق چلے گئے تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا۔اور اگر پرویز مشرف نہ رہے تو یہ ملک کہاں جاۓ گا۔ آخر ریت میں سردبانے والے شترمرغ اور ایک ریاست کے طورطریقوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہئیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||