وہ چپ لگی ہے ! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسوقت پاکستان کے پندرہ کروڑ میں سے ساڑھے سات کروڑ افراد کی عمر پچیس برس یا اس سے کم ہے۔میں کتنا بھی زور لگالوں، کوئی فقرہ استعمال کر لوں، کسی بھی لفظ کا سہارا لے لوں مگر ان ساڑھے سات کروڑ کو نہیں سمجھا سکتا کہ پچیس برس قبل چار اپریل کو پورے پاکستان کو کیسی چپ لگ گئی تھی۔ تعبیر کے بغیر خواب بیچنے والوں کے ساتھ جو ہوتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ وہی ہوا۔انکی لاش تو فوجی بندوقوں کے ساۓ میں دفن ہوئی لیکن ان کی سیاسی میراث کی تدفین انکے وارثوں نے کی۔ انیس سو اکہتر میں پاکستان کے دوٹکڑے ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو جتنے اختیارات کے ساتھ یہ ملک سونپا گیا تھا وہ اگر چاہتے تو ان سے کام لیتے ہوۓ موثر طور پر فوج کی غیرجانبدارانہ تطہیر کرکے اسے سیاست کنٹرول کرنے کے شوقین ادارے سے دوبارہ پیشہ ورانہ فوج کی سطح تک لا سکتے تھے۔ایک وقت تو یہ بات بھی ان کے بس میں لگتی تھی کہ وہ پاکستان کو جاگیردارانہ سماج سے صنعتی سماج کے رخ پر ڈال سکتے ہیں۔وہ اتنے مقبول رہنما تھے کہ پاکستان میں جمہوری بنیادوں کو مضبوط کرتے ہوۓ ہر ادارے کو پارلیمنٹ کے زیردست لا نے کی مثال قائم کر سکتے تھے۔وہ لمبے چوڑے دعوے کرکے بین الاقوامی سفید ہاتھیوں کے کان میں خطرے کی گھنٹی بجاۓ بغیر کسی حد تک اپنا علاقائی اور پان اسلامک ایجنڈہ بھی آگے بڑھا سکتے تھے۔لیکن شخصی اور نفسیاتی تضادات کے سبب وہ ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہ کر سکے۔
ہاں! ذوالفقار علی بھٹو کو یہ ادراک ضرور تھا کہ عوامی طاقت کو کس طرح چابکدستی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔شائد یہی وہ نکتہ تھا جس کے سبب انکی موت کے کئی برس بعد تک بہت سے لوگوں کے دل میں یہ امید زندہ رہی کہ جس سیاست کو بھٹو ڈرائنگ روم سے کھینچ کر سڑک پر لاۓ تھے وہ اب دوبارہ ڈرائنگ روم میں پناہ نہیں لے سکے گی۔لیکن انکی پھانسی کے بعد سے اب تک بیلٹ بکس کے ہوتے ہوۓ بھی پاکستان میں جو سیاسی حکومتیں بنیں وہ سڑک کے راستے نہیں بلکہ ڈرائنگ روم کے پچھلے دروازے سے سڑک کے لوگوں کے سامنے پیش کی گئیں۔ پچیس برس قبل ایسا لگتا تھا جیسے زندہ بھٹو سے زیادہ طاقتور مردہ بھٹو ثابت ہوگا لیکن آج ذوالفقار علی بھٹو محض ایک ایسی تصویر کا نام ہے جو پاکستان کے سیاسی میوزیم میں متعدد تاریخی تصاویر کے درمیان رکھی ہے۔ان کے نام پر ہر سال چار اپریل کو قران خوانی بھی ہوتی ہے۔مقررین جمہوریت کی افادیت پر روشنی بھی ڈالتے ہیں۔آمرانہ رحجانات کو دوچار گالیاں بھی پڑ جاتی ہیں۔مزار پر حاضری دینے والے چادریں بھی چڑھاتے ہیں لیکن اسکے بعد سب لوگ اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے کسی نے کوئی سبق سیکھا ہے تو صرف اسٹیبلشمنٹ نے سیکھا ہے۔ یعنی سیاست اور انتخابی عمل اتنا نازک اور اہم کام ہے کہ اسے محض عوام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||