ترکی اور یورپ کے معاہدے کاخیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے ترکی کو رکنیت دینے کے بارے میں مذاکرات کوشروع کرنے کے فیصلے کو وسیع پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم ترکی کے وزیر اعظم طیب ارزگان کو ملک کے اندر یورپی یونین میں شمولیت کے بارے میں بہت سےسخت سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں میں یہ پیش رفت ترکی کی طرف سے اس یقین دہانی کے بعد عمل میں آئی ہے کہ وہ یونانی قبرص کو تسلیم کر لے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں ترکی ایک مثبت جہموری قوت ثابت ہو گا۔ ارزگان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ ہونے والا سمجھوتے سے قبرص کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے وہ سو فیصد نہیں حاصل نہیں کر سکے۔ استنبول میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈیمنڈ کا کہنا ہے کہ بہت سے ترک اس بات پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ یونانی قبرص کو تسلیم کرنا شمالی یا ترکی کے زیر انتظام قبرص میں رہنے والوں کا سودا کرنے کے مترادف ہوگا۔ ارزگان پر سیاسی مخالفیں کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے کہ قبرص کے مسئلہ پر ان کا رویہ نرم ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے بہت بھاری معاوضہ ادا کیا ہے۔ ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کے مذاکرات تین اکتوبر دو ہزار پانچ کو ہونا قرار پائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||