ترکی اور یورپ میں ’معاملہ‘ ہوگیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے بارے میں ترکی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے شرائط پر برسلز میں ہونے والی کانفرنس کے دوران دوسرے دن کی تعطلی کے باوجود ’اتفاق‘ ہوگیا ہے۔ یورپ اور ترکی کے سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ ایک معاملے کے تحت ترکی کی حکومت اس بات پر راضی ہوگئی ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ آئندہ اکتوبر سے رکنیت کے موضوع پر شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل وہ قبرص کو تسلیم کر لےگی۔ ترکی کا قبرص کے شمالی حصے پر قبضہ ہے جبکہ جنوبی حصے والے قبرص کو عالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے اور وہ یورپی یونین کا رکن ہے۔ ترکی ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ وہ جنوبی حصے والے قبرص کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ برسلز میں ہونے والے اس معاملے کے تحت ترکی کو جمعہ کے دن اختتام کانفرنس پر فوری طور پر قبرص کو تسلیم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرنا پڑے گا۔ یورپی یونین اور ترکی نے اس معاملے کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن اس کےبارے میں کوئی بیان ضرور دیں گے۔ یورپی یونین کے سفارت کاروں نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ برسلز میں ترکی کے ساتھ ہونے والے معاملے کے بارے میں ترکی جلد ہی ایک تحریری بیان جاری کرے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس بیان میں ترکی ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کا وعدہ کرے گا جس کے تحت قبرص سمیت یورپی یونین کے دس نئے رکن ممالک کو ترکی کے کسٹم یونین میں شمولیت کا حق ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکی کی حکومت عملی طور پر قبرص کو تسلیم کرلے گی اور اس سیاسی عمل کا فائدہ یہ ہوگا کہ ترک حکومت کو اس بات کا وقفہ مل جائے گا کہ وہ اپنے عوام کو راضی کرسکے۔ سفارت کاروں نے بتایا کہ جمعہ کے روز ہونے والے معاملے کے تحت ترکی کی حکومت اس معاہدے پر آئندہ تین اکتوبر سے قبل دستخط کرنا پڑے گا جب سے یورپی یونین کی رکنیت پر بات چیت شروع ہونی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||