نئے پوپ کا خیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا نے کارڈنل جوزف رٹزینگر کو پوپ جان پال دوئم کا جانشین منتخب کئے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کہا کہ انہیں امید ہے کہ نئے پوپ مغرب اور اسلام کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ صدر مشرف نے فلپائن میں اپنے مختصر دورے کے دوران کہا ’امید ہے کہ پوپ اسلام اور عیسائی مذہب کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرنے میں مدد کریں گے۔‘ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی پوپ کو مبارکباد کے پیغام میں کہا ’میں تمام افغانوں کی جانب سے نئے پوپ کو نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں‘۔ پاکستان کی آبادی میں تقریباً 15 لاکھ رومن کیتھولک ہیں۔ بنگلہ دیش کے کیتھولک رہنما نے بھی نئے پوپ کو مبارکباد دی۔ آرچ بشپ مائیکل روزاریو نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا’ کیتھولک رنگ ، نسل اور علاقے میں کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم سیای شناخت کے بجائے روحانی پہچان پر توجہ دیتے ہیں‘۔ بھارت کے کیتھولک رہمنا نے کہا کہ نئے پوپ سابق پوپ کی روایات کو برقرار رکھیں گے۔ جرمن نژاد جوزف ریٹزنگرکوچوتھے دور کی ووٹنگ کے بعد265 ویں نیا پوپ منتخب کیا گیا۔ ان کے انتخاب سے روایت پسندوں کو خوشی ہوئی ہوگی لیکن اسقاط حمل جیسے مسائل پر تبدیلی کے حامیوں کو مایوسی ہوئی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||