| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں پادری کا قتل
پاکستان میں صوبہ پنجاب میں نا معلوم افراد نے خانیوال کے ایک چرچ کے پادری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ جمیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ پادری مختار مسیح منگل کی صبح لاہور جانے کے لئے ریلوے سٹیشن جا رہے تھے جب انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم ان کی ہلاکت کی بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ ’پولیس تحقیقات کر رہی ہی، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ذاتی دشمنی کی بنا پر مارا گیا اور اس کے پیچھے فرقہ وارانہ وجوہات نہیں ہیں۔‘ لیکن مقتول پادری کے ایک دوست خورشید جیکب نے کہا کہ انہیں چند مقامی مسلمانوں سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں دیں۔ سن دو ہزار دو میں پاکستان میں عیسائیوں پر حملوں میں تقریباً پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ان میں سے بیشتر ہلاکتیں پنجاب میں ہوئیں۔ تاہم پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی نے نئے سال کے موقع پر کہا کہ صوبے میں گزشتہ سال کوئی فرقہ وارانہ حملہ نہیں ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||