پوپ بینیڈِکٹ سولہویں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ جان پال دوئم کے بعد پوپ بینیڈِکٹ سولہویں نئے پوپ بنائے گئے ہیں۔ وہ ایک بلین سے زائد کیتھولک فرقے کے مذہبی رہنما ہیں۔ نئے پوپ کے بارے میں مسلم اور یہودی رہنماؤں نے حسب ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے۔ طارق رمضان اسلامیات کے ماہر ہیں۔ وہ مختلف مذاہب کے درمیان ڈائیلاگ کے لئے کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ پیرس اور جنیوا میں رہتے ہیں: ’’مسلمانوں کے لئے یہ کافی اہم کہ پوپ بنیڈِکٹ سولہویں مختلف برادریوں کے درمیان ڈائیلاگ کے فروغ کے لئے کیا کرتے ہیں، کیتھولک چرچ کے اندر مختلف خیالات رکھنے والوں کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں، کیوں کہ اس سے واضح ہوجائے گا کہ وہ دوسرے مذاہب کی جانب کس رویے سے پیش آئیں گے۔ ایک تاثر ہے کہ وہ ڈائیورسٹی (تفریق) میں دلچسپی نہیں رکھتے، وہ بنیادی اصولوں کی جانب واپس ہونا چاہتے ہیں جنہیں وہ کیتھولِک تعلیمات کی ضروریات سمجھتے ہیں۔ دوسری فکر یہ ہے کہ پوپ بنیڈِکٹ سولہویں مغربی معاشروں کے اندر موجود مذاہب کی جانب تنگ نظر رویہ رکھتے ہیں، یعنی وہ یورپ میں مسیحیت کی مرکزیت چاہتے ہیں۔ ہم مسلمان یورپ میں اپنی موجودگی کی تعمیر کررہے ہیں۔ ہم فکرمند ہیں کہ پوپ سیکولرزم مخالف جو جدوجہد ہے اسے مسیحیت بنام سکیولرزم کا رنگ دیں گے۔ وہ بھول جائیں گے کہ دوسرے مذاہب کے اندر سے نکلنے والی روحانیت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس سے ہماری مشترکہ جڑوں اور ہماری مشترکہ امیدوں کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔‘‘ اسرائیل سِنگر ورلڈ جووِش کانگریس کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے نئے پوپ کی تقرری پر یہودی برادری کا یہ موقف بیان کیا: ’’ہم پوپ بینیڈِکٹ سولہویں کو ایک اہم دانشور سمجھتے ہیں، ایک معتبر کیتھولِک اور ایک شخص جو اپنے اصولی اور قدامت پسند خیالات کے باوجود دوسروں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ بیس برسوں میں انہوں نے اپنا وقت یہودی مخالف تعصب کے خلاف آواز اٹھانے میں صرف کیا اور اس موضوع پر کیتھولِک نظریے میں تبدیلی کی بات کی۔ اس لئے میں ان کی بات پر یقین کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسیحی بائبل میں ایسے اقتباسات کا جو انفرادی یہودیوں کی مذمت کرتے ہیں، یہودی مخالف تعصب کے لئے استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے معذرت خواہ ہونے کی ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈائیلاگ کے لئے ہمیں ایسے خیالات رکھنے والا ایک ایسا پارٹنر ملا ہے جو ایک اعشاریہ دو بلین لوگوں کے چرچ کا سربراہ ہے۔ اور ہماری کوشش ہے کہ آنے والے برسوں میں ایسے پوپ کے دور میں اب تک کی وہ کامیابیاں ضائع نہ ہوں جو ہم نے پوپ جان پال دوئم کے دور میں حاصل کیں۔۔۔۔‘‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||