لندن : مسلم گینگ جرائم میں ملوث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جنوبی لندن میں مسلح گینگ اسلام کے نام پر جرائم کر ر ہے ہیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کی کارروائیوں کا نشانہ نوجوان لڑکے بن رہے ہیں جنہیں یہ گروہ اپنے ساتھ شامل نہ ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ انہیں ’مسلم بوائز‘ نامی گروہ کے بارے میں معلومات ہیں اور اس گینگ کے کچھ ممبران اسلحہ رکھنے اور منشیات کے استعمال کے جرم میں پکڑے بھی گئے ہیں۔ پولیس اور مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کہ اس گینگ کے ممبران کا عقیدہ قانونی نہیں ہے۔ جنوبی لندن میں نوجوان لڑکوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے رکن وانو شیشمی کا کہنا تھا کہ یہ گینگ پسماندہ طبقے کے افراد کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم جانتے ہیں کہ یہ گینگ نوجوان لڑکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ وہ نوجوان لڑکے ہیں جو بےعقیدہ ہیں اور انہیں اعتبار کرنے کے لیے کچھ چاہیے ہے‘۔ برکسٹن مسجد کے عبدالحق الدعی کا کہنا تھا کہ’ لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کے کچھ نوجوان مسلمان انتہاپسند اسلامی سوچ رکھتے ہیں چناچہ ہم برکسٹن مسجد کے معاملے میں فکر مند ہیں کیونکہ ہم انتہا پسندی کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں‘۔ لندن پولیس اس علاقے کی سیاہ فام آبادی میں اسلحے سے متعلق جرائم پر قابو پانے کے لیے’ آپریشن ٹرائیڈنٹ‘ کے نام سے کارروائی کر رہی ہے۔ اس آپریشن کے انچارج سکاٹ لینڈ یارڈ کے جان کولز کا کہنا ہے کہ ’ ہمیں مسلم بوائز نامی اس گینگ کا علم ہے جس کے ممبران اسلحہ اور منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کو گرفتار کیا جا چکا ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ ان افراد میں سے کچھ اسلام قبول کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں تاہم ان کے عقائد اور اعمال اصل مسلمانوں سے مطابقت نہیں رکھتے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||