لندن حملے: حامیوں پر بغاوت کے مقدمے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی اٹارنی جنرل کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ جن علماء نے گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والے حملوں کی حمایت کی تھی ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات چلائے جا سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل کے دفتر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکام ان حملوں کے بعد اخبارت میں شائع ہونے اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے نشر ہونے والے ان علماء کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کہ کہنا ہے کہ جائزوں میں وہ تبصرے، تقریر اور خطبے بھی شامل ہیں جو ان حملوں کے بعد کیے اور دیے گئے۔ واضع رہے کہ لندن میں 7/7 کو اور اس کے بعد ہونے والے حملوں میں بسوں، ٹیوب اور ٹیوب سٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ان میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وکلاء اور سینئر پولیس افسر آئندہ کچھ روز میں ملاقات کرنے والے ہیں اور اس ملاقات میں ان تمام بیانات، تبصروں، تقاریر اور خطبوں کا جائزہ لیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ آیا مقدمات چلانے کے لیے کافی شواہد ہیں یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||